خطبات محمود (جلد 39) — Page 177
1958ء 177 خطبات محمود جلد نمبر 39 جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کرے اور بغیر استثناء کے ان کا ہر فرد اس میں حصہ لے۔ اگر ہماری جماعت کے افراد صرف اپنے رشتہ داروں کو ہی تبلیغ کریں اور ایک ایک شخص کے ہیں ہیں رشتہ دار بھی سمجھے جائیں تب بھی تھوڑے عرصہ میں ہی ہماری جماعت کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ہے۔ بیشک لوگ تمہیں غیروں کو تبلیغ کرنے سے روک سکتے ہیں لیکن کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو یا اپنے خسر کو یا اپنے سالے کو تبلیغ نہ کرو۔ اگر تم کسی غیر کو تبلیغ کرو تو ممکن ہے وہ تمہیں مارنے پیٹنے جائے لیکن تمہارا اپنا اپ تمہیں نہیں مارے گا تمہارا بیٹا تمہیں نہیں مارے گا، تمہارا خسر تمہیں نہیں مارے گا۔ اور اگر تم میں سے ایک ایک شخص کے پچاس پچاس رشتہ دار ہوں اور ہماری جماعت دس لاکھ ہو تو پھر تو تھوڑے عرصہ کی جدو جہد کے نتیجہ میں ہی ہماری جماعت کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اور اگر ہم پانچ کروڑ ہو جائیں تو پھر مخالفت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا ۔ لوگ خود بخود ہماری طاقت کو تسلیم کرنے لگ جائیں گے اور پھر دوسرے ملکوں پر اثر ڈال کر پانچ کروڑ سے دس کروڑ تک تعداد پہنچ سکتی ہے اور ملایا اور انڈو نیشیا وغیرہ پر اثر ڈال کر تو یہ تعداد اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری جماعت کی ترقی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ چنانچہ فلپائن میں ، ڈچ گی آنا میں، فرنچ گی آنا میں اور برٹش گی آنا میں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے سرعت سے پھیل رہی ہے اور وہاں ہماری تبلیغ پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔ یہ مخالفت کا جوش صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے ورنہ امریکہ میں یا انگلینڈ میں یا جرمنی میں یا سوئٹزر لینڈ میں یا فرانس میں یا سپین میں یا ٹرینیڈاڈ میں یا ڈچ گی آنا میں یا برٹش گی آنا میں یا فرنچ گی آنا میں جب ہم غیر مسلموں میں تبلیغ کرتے ہیں تو وہاں کے مسلمان اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم اُن کے ملک میں اسلام پھیلا رہے ہیں۔ بلکہ انڈونیشیا کے لوگوں کی تو یہ حالت ہے کہ 1953ء میں جب ہماری جماعت کے خلاف یہاں فسادات ہوئے تو انڈونیشیا نے اس کے خلاف حکومت پاکستان کے پاس احتجاج کیا جس کے متعلق انکوائری کمیشن کے موقع پر مولویوں نے کہا کہ اصل میں وہ ایک احمدی ایمبیسیڈر تھا جس نے حکومتِ پاکستان کے پاس پروٹسٹ کیا تھا لیکن خواجہ ناظم الدین صاحب نے اپنی گواہی میں تسلیم کیا کہ وہاں کی ایک مشہور سیاسی پارٹی کے لیڈر نے اس بارہ میں ہمارے پاس احتجاج کیا تھا اور گو وہ متعصب آدمی ہے لیکن جب وہاں ان فسادات کی خبریں پہنچیں تو اُس نے