خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 175

1958ء 175 خطبات محمود جلد نمبر 39 گفار مسلمانوں سے تلوار کی کوئی لڑائی نہیں لڑ رہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی ان سے جنگ کرنا ضروری ہو۔ پس اس جگہ قتال کے معنی ظاہری جنگ کے نہیں بلکہ مذہبی مقابلہ اور اسلام کی اشاعت کے ہیں۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ مخالفین اسلام ہمیشہ مذہبی وسو سے پیدا کر کے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پس قَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً کے معنی یہ ہوئے کہ تم غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کرو۔ اور یاد رکھو کہ یہ تم میں سے صرف چند افراد کا فرض نہیں بلکہ ساری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔ کاف کے یہی معنے ہیں کہ کوئی شخص بھی اس حکم کی تعمیل سے باہر نہ رہے۔ اگر دس لاکھ احمدی ہیں اور ان میں سے نو لاکھ ننانوے ہزار نو سوننانوے آدمی اس فرض کو ادا کرتے ہیں اور صرف ایک شخص تبلیغ نہیں کرتا تب بھی جماعت کے لوگ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سارے کے سارے تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔ وہ اُسی وقت اپنے فرض سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں جب وہ اس ایک شخص کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں کیونکہ قرآن کریم کی ہدایت یہ ہے کہ مشرکوں کے مقابلہ میں ساری کی ساری جماعت کو کھڑا ہونا چاہیے اور ہر فردکوان میں تبلیغ کرنی چاہیے۔ اسے یہ میں نے آج سے پچیس سال پہلے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے مو انہ کے موقع پر ساری جماع ساری جماعت سے عہد لیا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو تبلیغ کریں گے اور ان کو احمدی بنانے کی کوشش کریں گے مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت نے ابھی تک اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ لوگ جنہوں نے اس پر عمل کیا تھا انہوں نے تو فائدہ اُٹھا لیا اور وہ کامیاب ہو گئے مگر جنہوں نے عمل نہ کیا اُن کے اُٹھالیا رشته داراب تک غیر احمدی چلے آ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب ہماری جماعت اُس وقت سے بہت بڑھ چکی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر میری اس ہدایت پر عمل کیا جاتا اور ہر احمدی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں میں تبلیغ پر زور دیتا تو اب تک ہر طرف احمدی ہی احمدی نظر آتے ۔ مثلاً انڈو نیشیا ہے وہاں تینتیس سال سے تبلیغ ہو رہی ہے۔ 1925ء سے وہاں تبلیغ شروع ہوئی تھی اور اب 1958ء ہے۔ گویا تینتیس سال وہاں تبلیغی مشن کے قائم ہونے پر گزر چکے ہیں لیکن وہاں کے احمدیوں کی تعداد کے متعلق میں نے اپنے لڑکے مرزا رفیع احمد سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈونیشیا میں چندہ دینے والے تو صرف بارہ ہزار ہیں لیکن اگر اُن لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جو ہماری جماعت سے ہمدردی رکھتے ہیں تو چوبیس ہزار سمجھے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ اس ملک کی آبادی آٹھ کروڑ ہے اور تینتیس سال