خطبات محمود (جلد 39) — Page 171
1958ء 171 خطبات محمود جلد نمبر 39 اسلام کی یہ تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔ 1927 ء میں ہم نے وہاں مشن قائم کیے تھے جن پر اب اکتیس سال کا عرصہ گزر رہا ہے۔ اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کی کوششوں میں ایسی برکت ڈالی کہ اب خود اس انگریز نے تسلیم کیا ہے کہ چار سال کے عرصہ میں پہلے سے دس گنا لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان یورپ اور افریقہ کے عیسائیوں میں تہلکہ مچا سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر یہاں کوشش کی جائے تو اس جگہ کے عیسائی بھی اسلام کے مقابلہ سے مایوس نہ ہو جائیں۔ لارڈ ہیڈلے جو کسی زمانہ میں پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں جب واپس گئے تو افریقہ میں سے ہوتے ہوئے لندن گئے ۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ میں افریقہ میں اتنا بڑا تغیر دیکھ کر آیا ہوں کہ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان عیسائیت کا شکار ہیں یا عیسائی اسلام کا شکار ہیں۔ ہمارے وہ مبلغ جنہوں نے ان علاقوں میں کام کیا کوئی بڑے تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر جب وہ خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے کے لیے نکل گئے تو خدا نے اُن کے کام میں برکت ڈالی اور اکیلے اکیلے آدمی نے بڑے بڑے علاقوں پر اثر پیدا کر لیا اور انہیں اسلام کی خوبیوں کا قائل کر لیا۔ مگر اب وہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اور آدمی بھی آئیں جو ان علاقوں میں تبلیغ اسلام کا کام سنبھالیں تا کہ اسلام سارے افریقہ میں پھیل جائے اور یہ کام اُن نوجوانوں کا ہے جو ابھی وہاں نہیں گئے ۔ شروع شروع میں تو ایسے نو جوان بھجوائے گئے تھے جنہیں عربی بھی اچھی طرح نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اچھی خاصی عربی سیکھ لی ۔ مولوی نذیر احمد صاحب جنہوں نے وہیں وفات پائی ہے، نیر صاحب کے بعد بھجوائے گئے تھے اور بی ایس سی فیل تھے اور عربی بہت کم جانتے تھے مگر پھر انہیں ایسی مشق ہو گئی کہ وہ عربی زبان میں گفتگو بھی کر لیتے تھے اور بڑی بڑی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیتے تھے بلکہ آخر میں تو انہوں نے عربی کی اتنی کتابیں جمع کر لی تھیں کہ جو اعتراض ہوتا اُس کا جواب وہ فوراً اُن کتابوں میں سے نکال کر پیش کر دیتے ۔ وہاں مالکیوں کا زور ہے اور وہ لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کتابوں میں سے نکال کر دکھا دیا کہ امام مالک بھی یہی کہتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنے چاہیں جس پر وہ لوگ بڑے حیران ہوئے اور انہیں یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ آپ کی بات درست ہے۔ اب بھی وہاں سے خط آیا ہے کہ ہمارا ایک مبلغ جو مولوی فاضل ہے اُس سے وہاں کے مولویوں نے بحث کی ۔