خطبات محمود (جلد 39) — Page 153
1958ء 153 خطبات محمود جلد نمبر 39 اُن کے دلوں سے جاتا رہے لیکن اسلام اس کے الٹ تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! جب تم دشمن کے مقابلہ میں لڑائی کے لیے صف آراء ہو جاؤ تو ایک تو اپنے اندر استقلال پیدا کرو اور اس کے مقابلہ میں مضبوطی سے ڈٹے رہو اور دوسرے اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کیا کرو یعنی موت کو اپنے سامنے رکھو۔ گویا حکومتیں تو موت کو بھلا کر لڑواتی ہیں اور اسلام موت کو یاد دلا کر لڑواتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی نمایاں فرق ہے جو اسلامی تعلیم اور موجودہ زمانہ کے طریق کار میں پایا جاتا ہے۔ اسلام نے تو شراب کو یوں بھی حرام کیا ہوا ہے لیکن یورپین حکومتیں جنگ کے دنوں میں اپنے سپاہیوں کی شراب دگنی کر دیتی ہیں تا کہ انہیں یہ ہوش ہی نہ رہے کہ وہ کسی حالت میں ہیں مگر اسلام اس کے الٹ کرتا ہے اور بجائے یہ کہنے کے کہ شراب پیو، وہ کہتا ہے تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو کیونکہ فتح اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوا کرتی ہے۔ ظاہری سامانوں سے فتح حاصل نہیں ہوتی ۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ شاید تم کامیاب ہو جاؤ۔ اس جگہ معترض اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کو یہ پتا نہیں تھا کہ اگر لوگ ایسا کریں گے تو وہ کامیاب ہوں گے؟ اور اگر پتا تھا تو پھر اس نے "شاید" کا لفظ کیوں استعمال کیا ؟ مگر یہ اُن کی جہالت کی بات ہے۔ انہوں نے لغت کی کتابوں کو نہیں دیکھا۔ لغت میں لَعَلَّ کے استعمال کے بارے میں لکھا ہے کہ بیشک اس کے معنے شبہ کے ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس سے بولنے والے کے دل کا شبہ مراد ہو بلکہ کبھی اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جن لوگوں سے خطاب کیا گیا ہے اُن کے دلوں میں کوئی گھبہ ہے اور کبھی مخاطب کے علاوہ دوسرے لوگوں کے شبہ کا ذکر مراد ہوتا ہے۔ گویا بولنے والے کو تو یقین ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہ رہا ہے درست ہے اور وہ قطعی اور یقینی ہے مگر جس کو مخاطب کیا جارہا ہوتا ہے بعض دفعہ اُس کو کوئی شبہ ہوتا ہے اور بعض دفعہ اس کے علاوہ دوسروں کو کوئی شبہ ہوتا ہے۔ پس لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ کے یہ معنی ہیں کہ تمہاری فتح تو یقینی ہے لیکن اگر تم ذکر الہی کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ دوسرا آدمی جو تمہاری فتح کونا ممکن سمجھتا ہے وہ بھی خیال کرنے لگ جائے گا کہ شاید تم لوگ جیت جاؤ۔ انسانی اندازے چونکہ ظاہر پر ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ذکر الہی کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے تو وہ تمہاری کامیابی کے ایسے سامان پیدا فرما دے گا کہ تمہارا ساتھی جو پہلے تمہاری فتح کو نا ممکن سمجھتا تھا وہ بھی سمجھنے لگ جائے گا کہ اب تو ایسے