خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 3

1958ء 3 خطبات محمود جلد نمبر 39 ایک سو پانچ میل تک چلا جائے ۔ پھر اور ترقی کرے اور یہ دائرہ ایک سو میں میل تک چلا جائے۔ گویا اگر ہم صرف ہیں اسکول کھول دیں اور پندرہ پندرہ میل کے دائرہ میں ایک اسکول رکھیں تو تین سو میل تک ہمارا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر ہمیں سکول ایک طرف ہوں اور بیس سکول دوسری طرف ہوں تو تین سو میل ادھر اور تین سو میل ادھر ہمارا دائرہ بڑھ جاتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا دائرہ توے ہزار مربع میل تک وسیع ہو جاتا ہے اور سارے پنجاب کا رقبہ باسٹھ ہزار مربع میل ہے۔ غرض اگر ہم اس تجویز پر عمل کریں تو رفتہ رفتہ سارا مغربی اور مشرقی پاکستان اس کے احاطہ میں آ جاتا ہے۔ پس جب تک ہم اس مہا جال کو نہ پھیلائیں گے اُس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ تین چار سال تک جیسا کہ میں نے بتایا ہے مدرسہ احمدیہ سے فارغ ہونے پر ہمیں ایسے نوجوان مل جائیں گے جو دین کی خدمت کے لیے آگے آجائیں گے اور ان کے لیے بظاہر اور کوئی کام نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے مولوی فاضل کی ڈگری کو اُڑا دیا ہے۔ پہلے لڑکے مولوی فاضل پاس کر کے گورنمنٹ سروس میں چلے جاتے تھے۔ اس لیے اب ہم نے مولوی فاضل کو اُڑا دیا ہے۔ ہم انہیں اپنے ہی امتحان پاس کرائیں گے تا کہ وہ فارغ ہو کر دین کی خدمت کریں۔ آخر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ہزاروں روپیہ خرچ کر کے فارغ التحصیل نو جوان گورنمنٹ کو دے دیں اور وہ انہیں اپنے سکولوں میں لگا لے۔ اب جو نو جوان تعلیم حاصل کریں گے وہ مجبور ہوں گے کہ دین کی خدمت کریں۔ بیشک سلسلہ بھی مجبور ہوگا کہ اُن کے کھانے پینے کا مناسب انتظام کرے لیکن وہ بھی مجبور ہوں گے کہ اپنے کھانے پینے کا سامان سلسلہ سے آکر لیں اور اپنی خدمات سلسلہ کے لیے وقف کریں۔ باہر جا کر اُن کو کچھ نہیں ملے گا اور ان کو نہ رکھ کر سلسلہ کو کچھ نہیں ملے گا۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے گلے میں رسی باندھے ہوئے ہوں گے۔ مدرسہ احمدیہ کی تعلیم سے فارغ ہونے والے نوجوانوں نے صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے گلے میں رسی باندھی ہوئی ہوگی کہ اگر ہم سے کام نہیں لو گے تو تم کو مبلغ نہیں ملیں گے اور صد را منجمن احمد یہ اور تحریک جدید نے اُن کے گلے میں رسی باندھی ہوئی ہوگی کہ اگر تم ہمارا کام نہیں کرو گے تو تم کو بھی روٹی نہیں ملے گی۔ اس طرح دونوں فریق مجبور ہوں گے کہ ایک دوسرے کا کام کریں اور ان دونوں کے ملنے سے لاکھوں میل کے رقبہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے گا۔ جہاں تک چندے کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت چندہ دینے کی عادی