خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 117

1958ء 117 خطبات محمود جلد نمبر 39 کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے ۔ جَاهَدُوا فِينَا کے معنی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے کے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ بھی ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی شریعت آئی ہوئی ہو۔ پس اس جگہ لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا کے یہ معنے نہیں کہ ہم اُن کو اپنی شریعت بتا دیتے ہیں کیونکہ شریعت ہمیشہ پہلے تھے آتی ہے اور جہاد بعد میں ہوتا ہے۔ اس جگہ لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا کے یہی معنی ہیں کہ ہم ان کو اپنے قُرب کی راہیں بتا کر اپنا مقرب بنا لیتے ہیں۔ ہماری جماعت بھی اس وقت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا کی مصداق ہے کیونکہ وہ تمام دنیا میں اسلام کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ آخر جَاهَدُوا فِينَا سے جہاد بالسیف تو مراد نہیں ہو سکتا۔ اگر اس سے جہاد بالسیف مراد ہوتا اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا کہنے کی بجائے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا مُطَابِقًا شَرِيعَتَنَا يَا جَاهَدُوا اَحْكَامَنَا کہا جاتا تب تو بے شک یہ معنے بھی کیے جا سکتے تھے کہ شریعت کے مطابق جہاد چونکہ بعض لوگوں کے نزدیک صرف تلوار ہے اس لیے جَاهَدُوا فِينَا سے وہی لوگ مراد ہیں جو جہاد بالسیف کر رہے ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے جَاهَدُوا فِينَا فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس تلوار سے کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اُس کے پاس تو اُنہی کاموں سے پہنچ سکتا ہے جن سے وہ خوش ہو۔ یعنی ایسے کاموں سے جن سے اسلام کی دنیا میں اشاعت ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بڑھے۔ پس اس وقت ہماری جماعت ہی ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور وہی ہے جو اِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ کی مصداق ہے۔ محسن کے معنی عربی زبان میں اُس شخص کے ہوتے ہیں جو حکم کو اُس کی تمام شرائط کے ساتھ پورا کرے۔ پس اِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ اس پہلی بات پر پوری طرح عمل کریں گے جو ہم نے کہی ہے یعنی وہ پوری طرح جہاد کریں گے اور ہماری رضا کے حصول کی کوشش کریں گے ہم اُن کے ساتھ ہوں گے اور ہر میدان میں اُن کو کامیابی بخشیں گے۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش تو کریں مگر ان کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کوئی نہ کوئی غلطی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خدائی قرب اور اس کی نصرت سے محروم ہیں ۔ گویا بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ پر الزام لگایا جائے اور کہا جائے کہ اس نے ہماری طرف توجہ نہیں کی ہمیں اپنی ذات پر الزام لگانا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ ہم محسنوں والا کام نہیں