خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 103

1958ء 103 خطبات محمود جلد نمبر 39 لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ فلاں قبیلہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا اُس قبیلہ کے لوگ تو بہت تھوڑے ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ نہیں ہو سکتے ۔ ساتھیوں نے پھر کہا یہ فلاں قبیلے کے کتے لوگ ہوں گے۔ ابوسفیان نے کہا میں جانتا ہوں کہ اس قبیلہ کے لوگ بھی تھوڑے ہیں ۔ یہ ان سے بہت زیادہ ہیں۔ ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اندھیرے میں سے آواز آئی۔ ابوحنظلہ ( یہ ابو سفیان کی کنیت تھی )۔ ابوسفیان نے آواز پہچان کر کہا عباس ! تم یہاں کہاں؟ انہوں نے جواب دیا سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر پڑا ہے۔ ابو سفیان گھبرایا اور اپنی سواری پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے خیال کیا کہ اب میری شامت آگئی ہے کیونکہ میں نے ساری عمر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا ہے۔ حضرت عباس جوابو رت عباس جو ابوسفیان کے گہرے دوست تھے اور پہرہ پر مقرر تھے انہوں نے کہا کم بخت! جلدی سے میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جا۔ ورنہ عمر میرے پیچھے آرہا ہے وہ تیری خبر لے گا۔ چنانچہ حضرت عباس نے ابو سفیان کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔ وہاں پہنچتے پہنچتے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباس سے فرمایا عباس ! تم ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو۔ صبح میرے پاس لانا۔ چنانچہ ابوسفیان ساری رات حضرت عباس کے پاس رہا۔ جب صبح اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو فجر کی نماز کا وقت تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور دس ہزار کا لشکر پیچھے صف باندھے کھڑا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع کے لیے اپنا سر جھکایا تو دس ہزار مسلمان آپ کی اتباع میں نیچے جھک گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے کھڑے ہوئے تو دس ہزار مسلمان کھڑے ہو گئے ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گرے تو دس ہزار افراد سجدہ میں گر گئے ۔ پھر سجدہ سے اُٹھے تو دس ہزار افراد سجدہ سے اُٹھ بیٹھے ۔ پھر دوبارہ سجدہ کے لیے جھکے تو دس ہزار افراد سجدہ میں جھک گئے ۔ پھر سجدہ سے اُٹھ کر تشہد کے لیے بیٹھے تو دس ہزار افراد تشہد میں بیٹھ گئے ۔ ابو سفیان نے سمجھا کہ شاید میرے لیے یہ کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہوا ہے۔ چنانچہ اس نے حضرت عباس سے جو پہرہ پر مقرر ہونے کی وجہ سے نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے دریافت کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا ابوسفیان ! گھبراؤ نہیں ، یہ تمہارے مارنے کی تیاری نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے