خطبات محمود (جلد 38) — Page 73
1957ء 73 خطبات محمود جلد نمبر 38 گی ہندہ بول اُٹھی کہ يَا رَسُولَ الله ! آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا ہم اب بھی شرک کریں گی؟ ہم مکہ والے متحد ہو کر آپ کے مقابلہ پر آئے۔ سارا عرب ہمارے ساتھ تھا اور آپ اکیلے تھے۔ ہم نے آپ کے ساتھ لڑائی کی۔ آپ نے کہا خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور وہ میری مدد کرے گا اور ہم نے کہا آپ کا خدا جھوٹا ہے وہ آپ کی مدد نہیں کرے گا۔ ہمارے بہت آپ کے خدا سے زیادہ طاقتور ہیں وہ آپ کے خلاف ہماری مدد کریں گے۔ لیکن ہوا کیا ؟ ہوا یہ کہ باوجود اس دعوی کے ہم ہار گئے اور آپ جیتے۔ اگر ہمارے بتوں میں کوئی طاقت ہوتی تو ہم جیت نہ جاتے۔ باوجود اس کے کہ انسانی طاقت ہمارے ساتھ تھی ، قوم ہمارے ساتھ تھی ، عرب کے تمام سردار ہمارے ساتھ تھے، تجربہ کار جرنیل ہمارے ساتھ تھے، اگر ہمارے بہت کمزور بھی ہوتے تب بھی ہمارے پاس اتنی طاقت تھی کہ ہم آپ کو شکست دے۔ دیتے لیکن ہم ہارے۔ اس سے صرف یہی پتا نہیں لگتا کہ ہمارے بنوں میں کوئی طاقت نہیں تھی بلکہ یہ بھی پتا لگتا ہے کہ آپ کے خدا میں طاقت تھی اور اس نے ایک اکیلے اور کمزور آدمی کو ہمارے سروں پر لا کے بٹھا دیا۔ اب ہم شرک کیسے کر سکتے ہیں ؟ اب تو یہ بات ہم پر واضح ہو گئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ أَنْزَلْنَا أَيْتِ مُّبَيِّنَتِ ۔ ہم نے ایسے نشانات ظاہر کیے ہیں کہ جو حقیقت حال کو کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ اب دیکھو ! فتح مکہ ہندہ جیسی ظالم عورت کی آنکھیں کھولنے کا موجب ہو گئی اور اس طرح اس کو نظر آ گیا کہ خدا تعالیٰ اور اسلام کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں۔ جب ہندہ کی آواز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنی تو آخر یہ لوگ آپ کے رشتہ دار تھے اور آپ اُن کی آواز میں پہچانتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہندہ! ہندہ دو پٹا اوڑھے عورتوں میں چھپی ہوئی بیٹھی تھی اور سمجھتی تھی کہ مجھے کون دیکھتا ہے۔ جب آپ نے ہندہ کہا تو اس نے سمجھا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے تو تمہارے متعلق اعلان کیا تھا کہ جہاں پکڑی جاؤ قتل کی جاؤ۔ اب تو یہاں بیٹھی ہے؟ اس لیے اب تمہیں پکڑا جائے گا۔ وہ جھٹ بول پڑی کہ يَا رَسُولَ اللہ! میں اب آپ کی حکومت سے باہر نکل چکی ہوں ۔ اب میں مسلمان ہوگئی ہوں اور مسلمان پر نہ آپ پر نہ آپ کا قبضہ ہے اور نہ کسی اور کا قبضہ ہے۔ بلکہ اس پر خدا تعالیٰ کا قبضہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اسلام لانے پر میرے سارے گناہ معاف کر دیئے ہیں ۔ اب میں نے آپ کی بیعت کر ہیں۔اب لی ہے اور مسلمان ہوگئی ہوں اس لیے اب آپ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ آپ نے فرمایا ہندہ! تو ٹھیک کہتی ہے۔ واقع میں اب میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ اسلام نے تمہارے سارے پچھلے گناہوں کو