خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 67

خطبات محمود جلد نمبر 38 کی سچائی پر اور زیادہ پختہ ہو گئے۔ 67 1957ء چونکہ لوگ تاریخ کے واقعات نہیں پڑھتے اس لیے انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں سے بعض واقعات کو کیا اہمیت حاصل ہے۔ یہ تو بہتوں کو پتا ہے کہ کس طرح عکرمہ نے پیاس کی وجہ سے تڑپتے ہوئے جان دے دی اور کہا کہ جب تک اس کے ساتھی سیر نہ ہو لیں وہ پانی نہیں پی سکتے ۔ پھر ابو جہل کے واقعات کا بھی ان کو علم ہے مگر اس بات کا بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ خود عکرمہ کے دل میں ایمان لانے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کتنا بغض تھا اور ایمان لانے کے بعد وہ آپ کی محبت میں اس طرح بدلے کہ آپ کی ذات تو الگ رہی وہ آپ کے صحابہؓ کی خاطر قربانی کرنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ تاریخ میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے فرمایا مسلمانوں کے ان بڑے بڑے دشمنوں کو جو انہی تکلیف دیتے تھے گرفتار کیا جائے اور قتل کیا جائے انہیں لوگوں میں عکرمہ بھی تھے۔ فتح مکہ کے بعد عکرمہ جان بچانے کے لئے حبشہ کی طرف بھاگ گئے ۔ ان کی بیوی دل سے مسلمان ہو چکی تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا يَا رَسُولَ الله ! میرا خاوند عکرمہ اپنا ملک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے اور حبشہ کی طرف چلا گیا ہے ۔ يَا رَسُولَ الله ! کیا یہ اچھا ہے کہ آپ کے چچا کا بیٹا آپ کے ماتحت رہے یا یہ اچھا ہے کہ وہ غیروں کی حکومت میں رہے؟ آپ نے فرمایاوہ بھا گا کیوں ہے؟ ہم نے تو اُسے ملک سے باہر نہیں نکالا ۔ عکرمہ کی بیوی نے کہا یا رَسُولَ الله ! يَا وہ جانتا تھا کہ آپ نے چند ایسے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو مسلمانوں کو دکھ دیا کرتے تھے اور چونکہ وہ بھی مسلمانوں کو دکھ دیا کرتا تھا اس لیے وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہاں رہا تو مارا جائے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا تو کوئی ارادہ نہیں تھا کہ اُسے قتل کیا جائے۔ اُس نے مکہ سے بھاگ کر چلے جانے کی غلطی کی ہے۔ عکرمہ کی بیوی نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! اب اس کے واپس آنے کی اور تو کوئی صورت نہیں یہی ہو سکتا ہے کہ میں بندرگاہ پر خود جاؤں اور اُس کو سمجھا کر واپس لاؤں ۔ کیا آپ مجھے ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! میری طرف سے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ عکرمہ کی بیوی نے کہا یا رَسُولَ الله ! آپ جانتے ہیں کہ وہ ابو جہل کا بیٹا ہے اور ابو جہل اپنی قوم کا سردار تھا۔ ابھی اسلام کی سچائی کا اسے علم نہیں ۔ اس نے صرف یہی نشان دیکھا ہے کہ آپ فاتح