خطبات محمود (جلد 38) — Page 59
1957ء 59 خطبات محمود جلد نمبر 38 اب دیکھو! یہ شخص ایک زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا مقرب تھا کہ آپ اس سے وحی لکھوایا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور قرآن کریم کا منکر ہو گیا۔ جب اتنے پایہ کا آدمی مرتد ہو سکتا ہے تو دوسرے انسان کا کیا اعتبار ہے۔ رض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو صحابہ تھے اُن پر آپ کتنا اعتماد کرتے تھے۔ قرآن کریم نے بھی اُن کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ 3 کہا ہے ۔ مگر اُن کی اولا داو اہے۔ اُن کے شاگرد آجکل دنیا میں موجود ہیں۔ ان کے ہاتھ میں اسلام کا کتنا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اسلام کا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں۔ اگر ان کی اولا د اخلاص کے ساتھ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ پڑھتی رہتی اور اس بات پر مغرور نہ ہوتی کہ ہم کسی صحابی کسی بزرگ کی اولاد ہیں اور ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تو شاید اُن کی دعاؤں کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ہدایت آج تک موجود رہتی اور اب بھی ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ۔ مگر اس تیرہ سو سال کے عرصہ میں کئی نسلیں ایسی آئیں جو مغرور ہو گئیں۔ جنہوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ ہم ایسے پایہ کے لوگ ہیں کہ ہمارے پاس گمراہی نہیں آ سکتی ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ شیطان ہر وقت تاڑ میں رہتا ہے۔ اور کبھی دائیں سے کبھی بائیں سے کبھی آگے سے اور کبھی پیچھے سے انسان کوگا گمراہ کر دیتا ہے۔ اسی غفلت کی وجہ سے لوگ رہ گئے اور ان کی اولادیں بھی ماری گئیں۔ اگر وہ ہوشیار رہتے اور شیطان کی چالاکیوں سے باخبر رہتے تو اپنے لیے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہتے اور یہ مانتے کہ ہدایت دینا یا ہدایت پر قائم رکھنا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ ہدایت پانا خدا کا کام نہیں ۔ ہدایت پر رہنا بھی انسان کا کام نہیں ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ہی ایسا کرے تو ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا تو ہم ہدایت پر قائم رہیں گے اور اگر خدا تعالیٰ ہماری مدد نہیں کرے گا تو ہم ہدایت پر قائم نہیں رہیں گے۔ اگر وہ اس طرح دعائیں کرتے رہتے تو دنیا میں اسلام کی وہ خراب حالت نہ ہوتی جو آج نظر آتی ہے۔ اسی طرح ہماری جماعت میں بعض مخلص دوست جب دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی آمدنی کا دسواں حصہ چندہ میں دے دیتے ہیں اور اس کا نام وصیت رکھتے ہیں یا دسواں حصہ جائداد کا چندہ میں