خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 40

1957ء 40 خطبات محمود جلد نمبر 38 چھین لیں۔ چنانچہ رات ہی کو یو۔این۔او میں فلپائن کے نمائندہ کی جو سلامتی کونسل کے صدر بھی ہیں ایک تقریر شائع ہوئی ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کشمیر کے مسئلہ کو پنڈت نہر وصرف ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ نہ سمجھے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف ہندوستان اور پاکستان کا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔ اور چونکہ اس سے ہمارا امن بھی قائم نہیں رہتا اس لیے فلپائن الگ نہیں رہ سکتا ۔ اگر اس قسم کی کوئی حرکت ہوئی اور کشمیر کو ہندوستان نے اپنے ساتھ ملایا تو فلائن یہ سمجھ گا کہ یہ ہم پر حملہ ہے کیونکہ یہ مسئلہ ایسا ہے جو کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں۔ اور پھر یہ تقریر اتنے اہم موقع پر انہوں نے کی ۔ جب اُن سے سوال کیا گیا کہ ہنگری میں روس کی دخل اندازی اسرائیل کا معاملہ اور کشمیر کا جھگڑا یہ سب یو۔این۔او میں پیش ہیں ۔ ان میں سے زیادہ اہمیت کسی کو حاصل ہے؟ انہوں نے کہا ان میں سب سے زیادہ اہمیت کشمیر کے مسئلہ کو حاصل ہے کیونکہ اس کا اثر ساری دنیا پر پڑے گا ۔ اور چونکہ اس کا اثر فلپائن پر بھی پڑے گا ، اس لیے فلپائن اور اس کے اردگرد کے ملک کشمیر کے معاملہ میں چُپ کر کے نہیں بیٹھ سکتے ۔ اب لازماً دنیا کی حکومتوں کو اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا ۔ اور اگر وہ ۔ کوئی فیصلہ نہیں کریں گی تو ساری دنیا میں ایسی آگ لگے گی کہ اس کا بجھانا ان کی طاقت سے باہر ہوگا۔ متواتر ان لوگوں کے مونہوں سے جو باتیں نکلوا رہا ہے ان سے پتا لگتا ہے کہ الہی تدبیر کام کر رہی ہے اور وہ دنیا کو دھکیل دھکیل کر کسی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ کہ اس کا آخری نتیجہ کس شکل میں نکلے گا؟ یہ بھی غیب میں ہے۔ خوابیں ایک حد تک غیب سے پردہ اٹھاتی ہیں گلی طور پر پردہ نہیں اٹھاتیں ۔ ہاں ! شاذ طور پر ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ وہ گالی طور پر غیب سے پردہ اُٹھا دیتی ہیں۔ جیسے ایک دفعہ مجھے رویا ہوئی تھی کہ سٹالن کو خون کی قے آئی ہے اور معاً بعد اُسے خون کی قے آئی۔ اور پھر مجھے یہ رویا ہوئی تھی کہ لیبر پارٹی انگلستان میں جیت جائے گی اور اسے ماریسن کے ماتحت ایسی فتح نصیب ہوگی کہ اسے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی ۔ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب انگلستان گئے اور وہاں انہوں نے مسٹر ایٹلی (Attlee) سے جو اُن دنوں لیبر پارٹی کے لیڈر تھے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تم تو کہتے ہو کہ ہمیں بڑی شاندار فتح نصیب ہو گی لیکن جو اس وقت پوزیشن ہے اُس کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم برابر بھی رہ جائیں تو سمجھیں گے بڑی بات ہے۔ لیکن اس کے بعد