خطبات محمود (جلد 38) — Page 23
1957ء 23 خطبات محمود جلد نمبر 38 مسجد جس شکل میں دیکھی ہے وہ وہ تھی جو اب ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے وقت میں مسجد کی یہ شکل نہیں تھی بلکہ صرف اتنا ہی حصہ تھا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنایا ہوا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب 1905ء میں فوت ہوئے تھے اور 1907 ء میں اس مسجد کی توسیع ہوئی تھی ۔ یہ توسیع میر ناصر نواب صاحب نے کی تھی اور اس پر انجمن کا اور میر ناصر نواب صاحب کا جھگڑا بھی ہوا تھا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک تحریر لکھ کر دی تھی جس کو ہمیشہ پیغامی اس بات کی دلیل میں پیش کیا کرتے ہیں کہ انجمن ہی خلیفہ ہے۔ تو وہ حصہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد بنا ہے۔ لیکن میں نے اس وقت دیکھا کہ وہ حصہ بھی مسجد میں شامل ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کھڑے تھے اور غالباً خطبہ دے رہے تھے۔ اُن کا منہ مشرق کی طرف تھا۔ میں جب مسجد کے اندر گھسا تو میرے ساتھ ایک دو ساتھی اور بھی تھے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے مسجد میں ہو رہی گنجائش کم ہے اور آدمی زیادہ ہیں۔ انہوں نے جب ہمیں آتے ہوئے دیکھا تو کہا لوگو! بارش : ہے ذرا سمٹ جاؤ اور رستہ دے دو۔ میں گزر کر اپنے ساتھیوں سمیت اُس کو ٹھڑی میں بھس گیا جس میں پہلے مولوی محمد علی صاحب رہا کرتے تھے اور بعد میں مولوی محمد اسماعیل صاحب اس میں رہتے رہے ہیں۔ اور پھر سیڑھی پر چڑھ کر گول کمرہ کی چھت پر چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ مکان ہے جس میں امہ الحی مرحومہ رہا کرتی تھیں۔ اس کی کھڑکی باہر چوک کی طرف کھلتی ہے۔ اگر اس میں کھڑے ہو جائیں تو مسجد مبارک کے آگے کا چوک اور وہ سیڑھیاں جونئی بنی ہیں اور وہ دکانیں جو مرز انظام الدین صاحب کی ہوتی تھیں وہ سب نظر آتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت اس کھڑکی کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ ہم پردہ دار عورتیں یہاں بیٹھی ہیں۔ اس وقت بارش ہو رہی ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں مگر بارش کی وجہ سے چونکہ کیچڑ ہے ہم نماز پڑھ نہیں سکتے ۔ اور اُس جگہ جو چھت ہے وہ بالوں والی نہیں ہے بلکہ لوہے کی سلاخوں کی ہے جس میں سے پانی گر سکتا ہے۔ تب میں نے کسی چیز کا سہارا لے کر جو پاس کی چھت پر لوگ بیٹھے تھے ان سے کہا کہ پاس کے کمرہ میں عورتوں سے کہہ دو کہ پردہ کر لیں تا کہ ہم کمرہ میں نماز پڑھ سکیں کیونکہ باہر بارش کی وجہ سے کیچڑ ہے۔ پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرا منشا تھا کہ اس جگہ مکان کو وسیع کیا جائے اور کچھ اور چھت ڈال لی جائے تا کہ نمازی اس میں آسکیں ۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔