خطبات محمود (جلد 38) — Page 18
1957ء 18 خطبات محمود جلد نمبر 38 اس کے بعد پھر غنودگی کی حالت طاری ہوئی اور فارسی کے کچھ شعر میری زبان پر جاری ہوئے ۔ فارسی میں نے درسی طور پر نہیں پڑھی صرف مثنوی رومی حضرت خلیفہ اول نے پڑھائی تھی اس لیے فارسی اشعار بہت کم زبان پر آتے ہیں لیکن عربی کے وہ اشعار جو پرانے شاعروں نے کہے تھے وہ زبان پر آ جاتے ہیں۔ بہر حال میں نے دیکھا کہ فارسی کے کچھ شعر میری زبان پر آگئے ہیں لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہے۔ آخر سوچتے سوچتے میرے ذہن میں آیا کہ وہ شعر جو میری زبان پر جاری ہوئے تھے ان کے اندر آر پار تار جیسے کچھ الفاظ تھے۔ اس کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا کہ کوئی شعر ایسے ہوں جو میں نے سنے ہوں اور جن میں ایسے الفاظ آتے ہوں ۔ اس پر یکدم مجھے یاد آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے فارسی کے دو شعر سنائے تھے اور وہی میری زبان پر جاری ہوئے تھے وہ شعر سرمد رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جانان مرا بمن بیارید این مرده تنم باو سپارید چوں بوسہ دہد بریں لبانم گر زنده شوم عجب مدارید اس میں بھی وہی بیار آرسیار کا وزن تھا۔ اس لیے اس وزن نے میری راہنمائی کی کہ وہ کونسے شعر ہیں جو میری زبان پر جاری ہوئے تھے۔ سرمد عشق الہی کی وجہ سے بعض ایسے الفاظ کہہ جاتے تھے الہی جن کی وجہ سے علماء سمجھتے تھے کہ یہ بے دین ہے اور وہ کہتے تھے کہ اسے پھانسی دی جائے۔ چنانچہ عالمگیر بادشاہ نے ان کے فتووں کی وجہ سے سرمد کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن در حقیقت ان کا عشق مجازی نہیں تھا بلکہ حقیقی تھا۔ جب سرمد کو پھانسی کا حکم ہو گیا تو انہوں نے کہا: ۔ دینا۔ جانان مرا بمن بیارید ایں مُردہ تنم باو سپارید کہ جب میں مرجاؤں تو میرے محبوب کو میرے پاس لانا اور میرا مردہ جسم اُس کے حوالے کر چوں بوسہ دہد بریں لبانم گر زنده شوم عجب مدارید پھر اگر وہ میرے لبوں پر بوسہ دے اور میں زندہ ہو جاؤں تو اس پر تعجب نہ کرنا۔