خطبات محمود (جلد 38) — Page 229
خطبات محمود جلد نمبر 38 229 اور مسجد بنانے کی توفیق دے دی ہے جو دوسری مسجد سے بھی بڑی ہے۔ 1957ء بہر حال جوں جوں مسجدیں بنتی گئیں اللہ تعالیٰ جماعت کو بھی برکت دیتا گیا۔ آج مجھے بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی نماز میں تین ساڑھے تین ہزار مرد اور عورت شامل ہوئے ہیں۔ حالانکہ پہلی مسجد میں ہزار ڈیڑھ ہزار آدمی جمعہ کے لیے آتا تھا اور جیسے جامن کو ڈبہ میں ڈال کر اور نمک ملا کر ہلایا جاتا ہے اُسی طرح اس مسجد میں نمازیوں کا حال ہوتا تھا۔ پھر دو اڑھائی سو سائیکل ہوتا تھا اور کاریں اور بسیں بھی آتی تھیں۔ تو دیکھو! یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے تم اُس کو یاد کرو اور اُس کے شکریہ کے طور پر خدا تعالیٰ کے گھر کو تعمیر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانی کرو۔ اب مجھے لاہور آنے کا موقع ملا تو میں نے شیخ بشیر احمد صاحب اور چودھری اسداللہ خان صاحب کو تحریک کی کہ بائیں کنال زمین اور ملتی ہے وہ بھی خرید لی جائے اور اس کے ساتھ چھ کنال کا ایک اور ٹکڑا ہے وہ بھی خرید لیا جائے۔ یہ ساری مل کر کوئی 35 کنال زمین ہو جائے گی جو قریباً ساڑھے چارا یکڑ بن جاتی ہے۔ اگر ساری زمین میں مسجد بن جائے تو لا ہور میں اور کوئی مسجد اس جتنی بڑی نہیں ہوگی ۔ در حقیقت ہماری مثال ویسی ہی ہے جیسے مشہور ہے کہ کسی چڑی مار ، نے جال بچھایا ہوا تھا اور کوئی شخص پاس سے شور مچاتا جا رہا تھا جس کی وجہ سے جانور جال میں پھنستے نہیں تھے۔ چڑی مار نے اسے پکڑ لیا اور خوب مارا اور کہنے لگا کہ تم شور ڈالنے کی بجائے یہ کہو کہ آتے جاؤ اور پھنستے جاؤ۔ چنانچہ اُس نے یہ فقرہ کہنا شروع کر دیا اور آگے چل پڑا ۔ رستہ میں اسے کچھ چور ملے ۔ انہوں نے جب اسے یہ فقرہ کہتے سنا تو انہیں بڑا غصہ آیا اور انہوں نے اسے خوب مارا اور کہا تو ہمیں یہ فقرہ کہہ کر پھنسانا چاہتا ہے۔ اُس نے کہا پھر اور کیا کہوں؟ انہوں نے کہا تم یہ کہو کہ لاتے جاؤ اور رکھتے جاؤ۔ چنانچہ اس نے یہی فقرہ کہنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دور جا کے اُسے ایک جنازہ ملا۔ اُس نے اونچی آواز سے یہ فقرہ کہہ دیا۔ اس پر جنازہ والوں نے اُسے پکڑ لیا اور مارا۔ اُس نے پوچھا کہ میں اور کیا کہوں؟ انہوں نے کہا تم کو یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ یہ دن کسی کو نہ دکھائے ۔ وہ وہاں سے گزرا تو آگے سے ایک برات آرہی تھی۔ وہ ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہنے لگا اللہ تعالیٰ یہ دن کسی کو نہ دکھائے۔ اس پر انہوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ غرض جس طرح اسے اپنے الفاظ بدلنے پڑے اسی طرح ہمیں بھی ہر تبدیلی پر ایک نیا قدم اٹھانا چاہیے۔