خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 221

1957ء 221 خطبات محمود جلد نمبر 38 پھر آپ کی کمزوری کی ایک مثال یہ ملتی ہے کہ آپ کی ایک بیٹی مکہ میں تھی جسے آپ نے نا بیٹی مدینہ بلوایا۔ جب وہ مدینہ جا رہی تھیں تو ایک شریر شخص نے ان کی اونٹنی کا تنگ توڑ دیا۔ پھر وہ شخص خانہ کعبہ میں گیا اور اُس نے خوب قہقہہ لگا کر رؤساء کے سامنے کہا جا کے دیکھو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی کا کیا حال ہے؟ وہ مدینہ جا رہی تھی کہ میں نے اس کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا اور وہ زمین پر گر گئی۔ اُس وقت ہندہ بھی وہاں موجود تھی۔ یہ وہی ہندہ تھی جس نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکلوا دیا تھا اور جنگ بدر اور دوسری لڑائیوں میں کفار کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا کرتی تھی اور کہتی تھی جاؤ اور لڑو، ور نہ ہم عورتیں تمہارے قبضہ میں نہیں آئیں گی۔ ہم تمہارے پاس تبھی آئیں گی جب تم مسلمانوں سے لڑو گے اور انہیں قتل کرو گے ۔ وہ فوراً کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی مکہ والو! تم کو شرم نہیں آتی ۔ تم وہ لوگ ہو جن کے باپ دادے اپنی بہادری پر فخر کیا کرتے تھے اور اب تمہاری یہ حالت ہے کہ تم نے ایک ایسی عورت کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا جس کا باپ کئی سو میل کے فاصلہ پر تھا اور اُس کو نیچے گرا دیا۔ تمہیں اس حرکت پر شرم کرنی چاہیے۔ پر اب اس واقعہ کا ہونا بھی آپ کی کمزوری کی وجہ سے ہی تھا ورنہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو طاقت دی تو آپ کے متبعین نے قیصر و کسرای کی حکومتوں تک کو پاش پاش کر دیا اور قیصر و کسری کے مقابلہ میں مکہ والوں کی اتنی حیثیت بھی نہ تھی جتنی ایک نمبردار کے سامنے کسی چوڑھے کی ہوتی ہے۔ پس ان کا مکہ میں ایسی حرکت کرنا یعنی آپ کی بیٹی کی سواری کا تنگ کاٹ کر اسے نیچے گرا دینا بتاتا ہے کہ وہ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی بے کس اور بے بس سمجھتے تھے۔ غرض تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات آتے ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت ایسا آیا جو آپ کی نہایت درجہ کمزوری اور بے بسی پر دلالت کرتا تھا۔ مگر اس کے بعد پھر وہ زمانہ آیا جب نصر اللہ اور فتح آ گئی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے ۔ اُس زمانہ کی تاریخ کو جب ہم پڑھتے ہیں تو پھر ہمیں اور رنگ کے واقعات دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ نصر اللہ اور فتح کا زمانہ آیا تو ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ والوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خزاعہ پر حملہ کر دیا تو انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ مسلمان اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کے لیے کہیں مکہ پر حملہ نہ کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔ جب حدیبیہ کی صلح ہوئی ہے اُس وقت ابو سفیان مکہ میں نہیں