خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 195

1957ء 195 خطبات محمود جلد نمبر 38 بحث کرنے کے لیے آئیں خصوصاً وہ لوگ جو اہلِ کتاب ہیں تو تم دلائل کے ساتھ اُن سے بحث کیا کرو اور دلوں پر اثر کرنے والی باتیں ان کے سامنے پیش کیا کرو۔ شاید اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ان کو ہدایت دے دے۔ گویا بحث سے تمہاری غرض یہ نہیں ہونی چاہیے کہ تم دشمن کو ذلیل کرو یا اپنے دلائل پر فخر کا اظہار کرنے لگ جاؤ۔ جیسے آجکل کے مسلمانوں کی حالت ہے کہ اگر ان کے مولوی کوئی معقول بات کہہ دیں یا معقول بات کے قریب قریب بھی کوئی بات کہہ دیں تو وہ فوراً نعرے لگا نا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ تم ایسے موقع پر نعرے لگایا کرو یا اپنے دشمن کو ذلیل کرنے کی کوشش کیا کرو بلکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ جس شخص سے تمہاری بحث ہو جائے خصوصاً ایسی صورت میں جب وہ اہل کتاب میں سے ہونے کا مدعی ہو تو اُس سے بحث کرتے وقت حکمت اور موعظت سے کام لیا کرو۔ یعنی ہر بات کی معقولیت دلائل کے ساتھ اُس پر واضح کیا کرو اور اس کی غرض وغایت اور حکمت پر بھی روشنی ڈالا کرو۔ اور بتایا کرو کہ ہم یہ مسائل اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے فلاں فلاں فائدہ ہو سکتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ نصیحت کرتے جاؤ کہ خالی بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ اصل چیز جو انسان کو فائدہ پہنچانے والی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے دل کو پاک کیا جائے اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا کی جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ دوسر سے کو ہدایت مل جائے ۔ میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ یہ طریق بڑا کارگر اور مؤثر ہوتا ہے۔ میں ایک دفعہ کراچی گیا تو جماعت کے بعض دوست ایک عرب کو میری ملاقات کے لیے لے آئے ۔ اس نے کہا مجھے آپ کی جماعت سے بڑی محبت ہے۔ کیونکہ آپ لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں اور تمام دنیا میں آپ نے مبلغ پھیلا رکھے ہیں۔ لیکن ایک بات مجھے بہت بُری لگتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کروڑوں مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے کہا بتاؤ کیا میں نے تمہیں کبھی کہا ہے کہ تم مسلمانوں کو کافر کہا کرو؟ انہوں نے کہا آپ نے ہمیں ایسا کبھی نہیں کہا۔ مسلمان کو کافر کہنے والا تو خود کافر ہوتا ہے۔ کہنے لگا میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کلمہ گولوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نے پھر اپنے دوستوں سے پوچھا کہ بتاؤ میں نے کبھی کہا ہے کہ جو شخص کلمہ پڑھے اُسے کافر کہو؟ انہوں نے کہا بالکل نہیں ۔ اس پر وہ گھبرا گیا اور کہنے لگا میرا مطلب یہ ہے کہ جو آپ سے اختلاف کرے اُسے آپ کا فر کہتے ہیں۔ میں نے پھر دوستوں سے کہا کہ بولو میں نے تمہیں کبھی کہا ہے