خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 147

1957ء 147 خطبات محمود جلد نمبر 38 دیکھو! مفتی محمد صادق صاحب جب امریکہ گئے تو سرکاری عملہ نے انہیں روک لیا اور امریکہ لیا میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ اُس وقت میں نے ایک نظم لکھی جو کلام محمود میں ہے اور جس کا ایک شعر یہ ہے کہ غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں اغیار کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے ہمیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حکومت جس نے انہیں روکا تھا ٹوٹ گئی اور اب جو دوسری حکومت قائم ہوئی ہے اُس نے حکم دے دیا ہے کہ احمدی مبلغوں کے آنے میں کوئی روک نہ پیدا کی جائے۔ بلکہ اب صرف احمدی مبلغوں کو ہی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ ہر سال پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو بھی اجازت دی جاتی ہے۔ پہلے صرف جرمن اور انگریز وہاں جا سکتے تھے مگر اب پاکستانی اور ہندوستانی بھی بڑی تعداد میں وہاں جا سکتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے فضلوں سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور انسانوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ انسان تمہارے پاؤں کی انگلی کی میل سے بھی زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور جب خدا چاہے گا انہیں کچل کر رکھ دے گا۔ مخالفتیں ایک عارضی چیز ہیں ۔ تمہیں اور خدا کر کھودے عارضی اصل تو کل خدا پر رکھنا چاہیے کہ وہی مدد کرنے والا اور دشمنوں پر غلبہ دینے والا ہے۔ 187 :1 : البقرة )الفضل 22 جون 1957ء 2 : صحیح بخاری كتاب التفسير باب " والجروح قصاص میں حضرت انس بن مالک کی پھو پھی کا ذکر ہے۔ 3 : سنن ابی داؤد كتاب الصلاة (كتاب الوتر) باب ما يقول الرجل اذا خاف قومًا 4: يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لَّا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ ۚ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَذَيكُمْ لِلْإِيْمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ (الحجرات : 18)