خطبات محمود (جلد 38) — Page 132
1957ء 132 خطبات محمود جلد نمبر 38 ہے کہ جتنے ترجمے اس وقت تک ہو چکے ہیں اُن سب سے یہ زیادہ مکمل ہے۔ مگر پورا پتا اُسی وقت لگے گا جب تھوڑی عربی جاننے والے اسے دیکھیں گے۔ جن کے دلوں میں شبہ بھی پیدا ہوا اور وہ دیکھیں کہ ان کا وہ شبہ اس ترجمہ سے دور ہو گیا ہے یا نہیں ۔ اگر کسی کو عربی بالکل ہی نہ آتی ہو تو اُسے یہ ترجمہ سمجھ نہیں آئے گا۔ کیونکہ اس کے دل میں تو شبہ پیدا ہو گا ہی نہیں۔ اور اگر عربی زیادہ آتی ہو تو پھر بھی اس کو شبہ نہیں ہوگا کیونکہ اُسے کوئی شبہ ہوگا تو وہ خود تحقیقات کر کے اس کو دور کر لے گا۔ غرض صرف درمیانی درجہ کا علم رکھنے والا ہی اس ترجمہ پر جرح کر سکتا ہے نہ میں کر سکتا ہوں اور نہ کوئی اور عالم کر سکتا ہے۔ کیونکہ ہم جو جرح کریں گے وہ ہمارے نزدیک پہلے ہی حل ہے۔ اگر ترجمہ میں کوئی مشکل پیدا ہوگی تو ہمارا عربی کا علم حل کر دے گا۔ اس لیے ہم کوئی رائے قائم نہیں کر سکتے ۔ رائے وہی قائم کرے گا جس کو کچھ عربی بھی آتی ہو اور وہ دیکھے کہ جو کچھ عربی میں لکھا گیا ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ اور پھر وہ کوئی بڑا عالم بھی نہ ہو کہ اُس کا دماغ خود ہی مشکل حل کرلے مگر بہر حال یہ ترجمہ وقت پر چھپ جائے تو لوگوں کے مختلف گروہ اس پر غور کریں گے اور وہ غور کر کے بیسیوں اعتراضات کریں گے۔ اور پھر جب ہم کو موقع ملے گا تو اگلے ایڈیشن میں اس کی اصلاح کر دیں گے کیونکہ قرآن شریف علم کا ایک بڑا بھاری خزانہ ہے اور اس کے اوپر حاوی ہونا کسی انسان کا کام نہیں ۔ کہتے ہیں کوئی سائیس 1 تھا ایک دفعہ اس کے مالک نے جو کوئی نواب زادہ تھا۔ اس سے کہا تم یوں کرو تو وہ کہنے لگا۔ سائیسی کا علم ایک دریا ہے تمہیں اس کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ تو اگر سائیسی کا علم دریا ہے تو قرآن کریم کا علم تو سمندر سے بھی کئی ہزار گنا زیادہ ہو گا۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ قرآن کریم میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں اگر ساتوں سمندر سیاہی بن جائیں اور سات سمندر اور اُن میں ڈال دیئے جائیں تب بھی وہ مضامین ختم نہیں ہوں گے ۔ 2 اور پھر ان کو کوئی انسان ترجمہ کے اندر کیسے لا سکتا ہے۔ وہ تو اپنی طرف سے یہی کرے گا کہ ایک ناقص چیز پیش کر دے۔ لوگ اُس پر اعتراض کرتے جائیں اور اصلاح ہوتی جائے ۔ کیونکہ قیامت تک لوگوں کو نئے نئے مضامین سوجھیں گے اور وہ اس کے مطابق قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح زمانہ گزرتا چلا جائے گا لیکن سینکڑوں، لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں سال میں بھی قرآن کریم کے معارف ختم نہیں ہوں گے۔ اس لیے یہ بات تو سرے سے ہی غلط ہے کہ میں کوئی کامل ترجمہ قرآن کریم کا کروں گا۔ کیونکہ