خطبات محمود (جلد 37) — Page 71
خطبات محمود جلد نمبر 37 پر جھوٹ بولنے لگ جاؤں ۔2 71 1956ء گو ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک معیار بیان کیا گیا ہے مگر اس میں ایک عام قانون کا بھی ذکر ہے جسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے مطابق میں کہہ سکتا ہوں کہ چونکہ میں چودھری محمد علی صاحب وزیر اعظم پاکستان کو بچپن سے جانتا ہوں اور اُن کے کیریکٹر سے پوری طرح واقف ہوں اس لیے میں یہ اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جہاں تک قرآن کریم اور اسلام کا سوال ہے وہ ایک نہایت پُر جوش اور اخلاص رکھنے والے شخص ہیں۔ اس لیے میں اُن کے متعلق یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ انہوں نے اس قسم کی کوئی بات کہی ہو کہ قرآن کریم فیل ہو چکا ہے اس لیے ہمیں اسلامی دستور بنانے کے سلسلہ میں اس سے راہ نمائی حاصل نہیں ہوئی اور ہم نے بہائیت کی تعلیم کا خلاصہ کر دیا ہے۔ اگر کوئی شخص ان کے متعلق یہ بات کہتا ہے تو میں اُس سے کہوں گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم سے کوئی شخص کسی کے ذاتی کیریکٹر کے خلاف کوئی بات کہے تو تم اُس کا فوراً انکار کر دو اور یہ بات چونکہ چودھری محمد علی صاحب کے کیریکٹر کے خلاف ہے اس لیے میں کہوں گا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ جہاں تک قرآن کریم کے فیل ہو جانے کا سوال ہے اگر قرآن کریم فیل ہو گیا ہوتا تو پاکستانی لیڈر اسلامی دستور بنانے کی کیوں کوشش کرتے۔ ہاں ! جواب کا آخری حصہ ایسا ہے کہ اس کے متعلق خیال کیا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے چودھری محمد علی صاحب نے بات ٹالنے کے لیے کہہ دیا ہو کہ ہم جس حد تک کام کر سکے ہیں اسے قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے اس سے زیادہ ہم کیا کر سکتے تھے۔ پھر یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے کہ اسلامی دستور کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے وہ بہائیت کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔ بہائیت کی ایک تعلیم یہ ہے کہ ساری دنیا کی ایک زبان ہونی چاہیے مگر عجیب بات یہ ہے کہ بہاء اللہ کے دعوی سے پہلے ایک زبان جاری کرنے کی تحریک پیدا ہو چکی تھی اور اُس وقت اسپرانٹو (ESPRANTO) زبان بنائی گئی تھی جس کے متعلق تجویز کیا گیا تھا کہ اسے ہر ملک میں پھیلایا جائے ۔ بہاء اللہ نے اس تحریک سے متاثر ہو کر اپنی کتابوں میں یہ یہ لکھ دیا کہ ساری دنیا میں ایک ہی زبان ہونی چاہیے اور بہائی اس پر بڑا فخر کرتے ہیں کہ دیکھو!