خطبات محمود (جلد 37) — Page 552
1956ء 552 خطبات محمود جلد نمبر 37 غرض اسی طرح حجمان بڑھتے بڑھتے آٹھ آ نہ تک پہنچا اور میراثی ایک روپیہ پر آ گیا اور کہنے لگا اگر تم اصرار ہی کرتے ہو تو ایک روپیہ دے دو۔ حجمان نے پھر بھی اٹھنی پر اصرار کیا۔ اتنے میں اُس کی آنکھ کھل گئی۔ میراثی نے دیکھا کہ نہ گائے کھڑی ہے اور نہ پیسہ ہے۔ اُس نے جھٹ آنکھیں بند کر لیں اور کہنے لگا حجمان! اچھا اٹھنی ہی دے دو۔ اب بھلا وہ حجمان کہاں سے آئے جو اُسے اٹھنی دے جائے ۔ یہی حال ان کا ہے۔ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہماری تنظیم تمہاری تائید میں ہے، ہماری اسٹیج تمہاری تائید میں ہے، ہمارا روپیہ تمہاری تائید میں ہے لیکن دیتے کچھ بھی نہیں۔ آخر کچھ دیں تو اُن بیچاروں کو پتا بھی لگے کہ واقعی یہ اُن کی مدد کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اگر اُن کی تنظیم ان منافقوں کی تائید میں ہے تو انجمن کے پہلے ممبروں سے استعفی دلوائیں اور ان کی جگہ ان کو ممبر بنائیں۔ اگر ان کی اسٹیج ان کی تائید میں ہے تو دو کنگ اور ہالینڈ مشن ان کے حوالہ کر دیں اور نام نہاد برلن مشن بھی ان کے حوالہ کر دیں اور کہیں تم ان مشنوں کو چلاؤ تا کہ تمہاری عزت بھی دنیا میں قائم ہو جائے ۔ اور اگر تمہارا کو روپیہ ان کے پیچھے ہے تو کم از کم جتنا چندہ تم انجمن اشاعت اسلام کو دیتے ہو اتنا ہی ان کو بھی دو۔ آخر تم اپنا سارا روپیہ تو انجمن اشاعت اسلام کو نہیں دیتے بلکہ اس میں سے کچھ روپیہ اسے دیتے ہو اتنا روپیہ تم ان کو بھی دے دو تا کہ ان کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو بن جائے ۔ اول تو یہ چاہیے کہ تمہارا سارا روپیہ انہیں ملے۔ یعنی اگر تم چھ سو روپیہ ماہوار کماتے ہو تو چھ سو کا چھ سو ہی انہیں دے دو ۔ اور اگر بیوی بچوں کے لیے بھی کچھ رکھنا ہے تو تین سو بیوی بچوں کے لیے رکھ لو اور تین سو ان لوگوں کو دے دو۔ لیکن اگر تمہارے چندے حقیر ہیں تو حقیر ہی سہی مگر اتنے حقیر چندے ان کو بھی تو دو تا کہ تمہارا روپیہ بھی ان کا ہو جائے، تمہاری اسٹیج بھی ان کی ہو جائے اور تمہاری تنظیم بھی ان کی ہو جائے ۔ غرض د تنظیم ان کی تائید میں ہے کا یہ ثبوت ہے کہ اپنے تمام ممبروں سے استعفی دلواؤ اور ان کی جگہ ان لوگوں کو ممبر بناؤ جو ہماری جماعت سے الگ ہو گئے ہیں۔ اور روپیہ ان کی تائید میں ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جتنا چندہ تم انجمن اشاعت اسلام کو دیتے ہو کم از کم اتنا چندہ تم ان لوگوں کو بھی دو۔ اور اسٹیج ان کی تائید میں