خطبات محمود (جلد 37) — Page 486
1956ء 486 خطبات محمود جلد نمبر 37 جنہیں چالیس پچاس لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد ہو۔ پھر ان کی بیٹی بیوہ رہ جائے اور پھر نواب رضوی پیدا ہوں جن سے اُس کی لڑکی شادی کر لے اور اپنی جائیداد کا ایک حصہ انہیں دے دے اور وہ اس جائیداد کی آمد میں سے کچھ رقم ایک مبلغ کو دے دیں تا کہ وہ انگلستان جا کر تبلیغ کرے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی لونڈی ایک دن او پلے جمع کرنے کے لیے جنگل میں گئی جن کو پنچابی میں گو ہے" کہتے ہیں۔ سردی کا موسم تھا ایک خرگوش سردی کی شدت کی وجہ سے ٹھٹھر کر کسی جھاڑی کے قریب بیہوش پڑا تھا۔ وہ لونڈی او پلے جمع کرتی ہوئی وہاں پہنچی تو خرگوش دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اُسے اُٹھا کر گھر لے آئی۔ گھر میں ہر فرد نے اُس کی تعریف کی اور کہا تم بڑی ہوشیار ہو جو خرگوش اُٹھا لائی ہو۔ اِس تعریف کی وجہ سے اُس کا دماغ خراب ہو گیا اور دوسرے دن صبح کو جب وہ پھر او پلے جمع کرنے کے لیے جنگل میں جانے لگی تو کہنے لگی بی بی! میں گوہیاں نوں جاواں یا سٹیاں نوں جاواں یعنی بی بی! میں او پلے اکٹھے کرنے جاؤں یا خرگوش اُٹھانے کے لیے جاؤں؟ گویا اُسے امید پیدا ہو گئی کہ اب ہر روز اسے خرگوش مل جایا کریں گے۔ یہی مثال ہماری ہو گی اگر ہم یہ کہیں کہ چلو کوئی نواب رضوی تلاش کریں جو کوئی مبلغ باہر بھیج دے۔ نہ نظام حیدرآباد کی ریاست قائم کی جاسکتی ہے نہ نظام کی بہن کو بیوہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اُس بیوہ کی بیٹی کو کسی احمدی وکیل سے بیاہا جا سکتا ہے اور نہ ہر روز نواب رضوی پیدا ہو سکتا ہے جس سے اس کی خفیہ طور پر شادی ہو جائے اور وہ اسے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ نظام حیدر آباد باد سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ نواب رضوی کو نالش نالش کی دھمکی اور پھر نواب رضوی کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے خواجہ کمال الدین صاحب جیسا آدمی مل جائے دے دے۔ اور نہ نظا دے اور وہ اسے انگلستان بھیجوا دے اور اسے ایک سال کے قیام کا خرچ اور سفر کے اخراجات بھی دے دے۔ یہ بہت دور کا اتفاق ہے جو ہزاروں سال کے بعد ہی میسر آ سکتا ہے۔ لیکن یہاں تو روزانہ مبلغ بھجوانے ہوں گے اور روزانہ مبلغ بھجوانے کے لیے تحریک جدید ہی کام دے سکتی ہے۔