خطبات محمود (جلد 37) — Page 33
1956ء 33 خطبات محمود جلد نمبر 37 سات ہزار سال تو الگ رہا سات ارب کا اندازہ بھی کم ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ دنیا سات کھرب سال سے چلتی چلی آ رہی ہے۔ بہرحال اس دنیا میں جو سات ہزار یا سات کھرب سال سے چلتی چلی آ رہی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ خدائی قانون کے ماتحت ایک بیل مرتا ہے تو کچھ اور بیل پیدا ہو جاتے ہیں، ایک بھینسا مرتا ہے تو کچھ اور بھینسے پیدا ہو جاتے ہیں، فاختائیں مرتی ہیں تو کچھ اور فاختائیں پیدا ہو جاتی ہیں، کبوتر مرتے ہیں تو کچھ اور کبوتر پیدا ہو جاتے ہیں ، مرغیاں مرتی ہیں تو کچھ اور مرغیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح انسان مرتے ہیں تو اُن کی جگہ کچھ اور انسان پیدا ہو جاتے ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے تو تاریخ محفوظ نہیں لیکن سینکڑوں سال تک کی تاریخ محفوظ ہے اور ان سینکڑوں سال کی تاریخ پر جب ہم نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے کہ ہر زمانہ میں انسان ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لیے آتے رہے ہیں۔ کسی وقت اگر رومی بادشاہ نظر آتے ہیں تو ان کے بعد ایرانی بادشاہ آ جاتے ہیں۔ جب ایرانی بادشاہ مٹ جاتے ہیں تو یونانی بادشاہ نظر آنے لگ جاتے ہیں۔ جب یونانی بادشاہ مٹ جاتے ہیں تو مغل بادشاہ نظر آنے لگ جاتے ہیں۔ جب مغل بادشاہ مٹ جاتے ہیں تو پٹھان بادشاہ نظر آنے لگ جاتے ہیں۔ پھر یورپ کو دیکھ لو وہاں بعض جگہ ہزاروں سال سے بادشاہت کا ایک تسلسل نظر آتا ہے۔ اسی طرح روس کو لوگ ظالم کہتے ہیں اور اُس نے فی الواقع بڑے ظلم کیے ہیں لیکن اس میں بھی حکومت کا ایک تسلسل قائم تھا اور آج تک قائم چلا آتا ہے۔ مثلاً دیکھو زار مٹ گیا تو اُس کی جگہ لینن آ گیا، لینن مر گیا تو اُس کی جگہ سٹالن نے لے لی، جب سٹالن مر گیا تو حکومت کی باگ ڈور مالنکوف نے سنبھال لی اور مالنکوف کے بعد بلگانن آگے آگیا۔ بہر حال ہمیں روس میں بھی یہ نظر آتا ہے کہ جب ایک لیڈر مرتا یا استعفیٰ دیتا ہے تو دوسرا اُس کی جگہ لینے کے لیے آ جاتا ہے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں حکومت کا یہ تسلسل نظر نہیں آتا۔ بیشک شروع شروع میں کچھ عرصہ تک ایک تسلسل نظر آتا ہے لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کی جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی ۔ حضرت ر فوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے آپ کی جگہ لے لی۔ حضرت عمرف عمر فوت ہوئے تو چاہے ابوبکر