خطبات محمود (جلد 37) — Page 30
1956ء 30 خطبات محمود جلد نمبر 37 ڈھونڈیں گے تو کہاں سے ڈھونڈیں گے؟ صدرا من احمدیہ کو چاہیے تھا کہ وہ بعض ماہر ڈاکٹر بُلاتی جو اس بات پر غور کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کپڑے کس طرح محفوظ رکھے جاسکتے ہیں اور ان کپڑوں کو شیشوں میں بند کر کے اس طرح رکھا جاتا کہ وہ کئی سو سال تک محفوظ رہتے یا انہیں ایسے ممالک میں بھیجوایا جاتا جہاں کپڑوں کو کیڑا نہیں لگتا۔ مثلاً امریکہ ہے وہاں یہ کپڑے بھیج دیئے جاتے تا انہیں محفوظ رکھا جا سکتا اور آئندہ آنے والی نسلیں ان سے برکت حاصل کرتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ کی خواہش تھی کہ عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے آپ کی اَليْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی مجھے ملے۔ ہم تین بھائی تھے اور تین ہی انگوٹھیاں تھیں مگر باوجود خواہش کے آپ نے قرعہ ڈالا اور عجیب بات یہ ہے کہ تین بار قرعہ ڈالا گیا اور تینوں دفعہ ہی اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی میرے نام نکلی ۔ غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِی وَقُدْرَتِی والی انگوٹھی میاں بشیر احمد صاحب کے نام نکلی اور تیسری انگوٹھی جو وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں تھی اور اُس پر مولا بس“ لکھا ہوا تھا تینوں دفعہ میاں شریف احمد صاحب کے نام نکلی۔ وو وہ اب دیکھو کہ کتنا خدائی تصرف ہے ایک بار قرعہ ڈالنے میں غلطی ہو سکتی تھی ، دوسری بار قرعہ ڈالنے میں بھی غلطی ہو سکتی تھی لیکن تین بار قرعہ ڈالا گیا اور تینوں دفعہ میرے نام الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ والی انگوٹھی نکلی ، میاں بشیر احمد صاحب کے نام غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِی رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي والی انگوٹھی اور میاں شریف احمد صاحب کے حصہ میں وہ انگوٹھی آئی جس پر مولا بس“ لکھا ہوا تھا۔ میں نے نیت کی ہوئی ہے کہ میں اَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی جماعت کو دے دوں لیکن میں اُس وقت تک اسے کس طرح دے دوں جب تک کہ وہ اس کی نگرانی کی ذمہ داری نہ لے۔ اگر وہ انگوٹھی میرے بچوں کے پاس رہے تو وہ کم سے کم اسے اپنی ملکیت سمجھ کر اس کی حفاظت تو کریں گے۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں یہ انگوٹھی اپنے بچوں کو نہ دوں بلکہ جماعت کو دوں۔ اس کے لیے میں نے ایک اور تجویز بھی کی ہے کہ اس انگوٹھی کا کاغذ پر عکس لے لیا جائے اور اُسے زیادہ تعداد میں چھپوایا لیا جائے۔ پھر نگینہ والی انگوٹھیاں تیار کی جائیں لیکن نگینہ لگانے سے پہلے گڑھے میں اس عکس کو دبا دیا جائے۔