خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 391

1956ء 391 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہمارے لیے چھوڑ دیں۔ آپ سیاسیات میں دخل دیتے ہیں تو ہمارا کام خراب ہو جاتا ہے۔ وہ جب زیادہ بیمار ہوئے تو مجھے اُن کا پیغام آیا کہ میری حالت بہت خراب ہے اور ڈاکٹروں نے مجھے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا ہوا ہے۔ اگر میں ذرا بھی اچھا ہوتا تو خود حاضر ہوتا۔ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔ آپ ایک منٹ کے کے لیے تشریف لاسکیں تو میں آپ پ کا کا بہت ممنون ہوں گا۔ میں نے کہا میں نے تو آپ کی عیادت کے لیے خود ہی آنا تھا۔ کہنے لگے آپ عیادت کے لیے جب چاہیں تشریف لائیں۔ اس وقت خود آپ سے مجھے کام ہے اور میں آپ کو تھوڑی دیر کے لیے یہاں تشریف لانے کی تکلیف دے رہا ہوں ۔ چنانچہ میں اُن کے بلانے پر ان کے مکان پر گیا۔ وہ بہت زیادہ بیمار تھے۔ پاس ہی پاٹ پڑا ہوا تھا۔ کہنے لگے میری حالت اچھی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ دو تین دن میں میں مر جاؤں گا۔ میں نے اس وقت آپ کو اس لیے بُلوایا ہے کہ چودھری شہاب الدین صاحب نے مجھے بدنام کر دیا ہے۔ وہ ہر جگہ یہی کہتے پھرتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب کو ان کا مخالف بنا یا ہے۔ سر فضل حسین صاحب نے کہا کہ سید محسن شاہ صاحب ( جو اصل میں نور پور کے رہنے والے تھے اور بعد میں لاہور آ کر بس گئے تھے ایک دفعہ وہ کسی ٹربیونل (TRIBUNAL) میں حج بھی رہ چکے ہیں ان کا ایک بیٹا سی۔ ایس پی میں ہے۔ اور ایک اور بیٹا بنکوں میں ملازم ہے۔ وہ اُن دنوں ڈلہوزی میں رہتے تھے۔ وہاں اُن کے چودھری شہاب الدین صاحب سے دوستانہ مراسم تھے اور لاہور میں بھی ان کے ان سے گہرے تعلقات تھے ) میرے پاس آئے تھے۔ وہ کہتے تھے میں چودھری شہاب الدین صاحب کے پاس گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سر فضل حسین مر رہا ہے لیکن میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اُس نے مرزا صاحب کو کہا ہے کہ چودھری شہاب الدین کو ووٹ نہ دیا جائے اور میں صرف انہی کی مدد سے کامیاب ہو سکتا ہوں ۔ اصل بات یہ تھی کہ میں اُن دنوں چودھری شہاب الدین صاحب سے خفا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ 1934ء میں جب گورنمنٹ نے مجھے سیفٹی ایکٹ کے ماتحت نوٹس دیا تو وہ نوٹس اُن کا سالا لے کر آیا۔ خالی نوٹس لانا تو کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں تھی کیونکہ وہ سرکاری ملازم تھا اور بالا افسروں کے احکام کی اطاعت کرنا اس کا فرض تھا۔ لیکن اس کا سلوک بھی گستاخانہ تھا۔ میں نے