خطبات محمود (جلد 37) — Page 380
خطبات محمود جلد نمبر 37 380 کبھی کبھی نازل ہو جاتا ہے تمہیں وہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ 1956ء غرض یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہے کہ اُس نے اکیس سال قبل ان واقعات کے متعلق مجھے اطلاع دے دی۔ یعنی اُس نے 1935ء میں مجھے رویا کے ذریعہ ان واقعات کا علم دیا اور پھر وہ رؤیا الفضل میں شائع بھی ہو چکی ہے۔ اسی طرح بعض رؤیا مجھے 1914 ء اور 1915ء میں دکھائے گئے۔ اور بعض دوستوں نے اپنے خطوط میں ان کے حوالے بھی دیئے ہیں مثلاً میں شملہ میں تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک رؤیا کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے رشتہ میں مشکلات پیش آئیں گی اور کئی لوگ تمہیں اپنی منزل سے پھرانا چاہیں گے مگر تم نے پھر نا نہیں بلکہ سیدھے چلتے چلے جانا اور یہ کہتے جانا کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ، خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اور جب تم ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہو گے تو اللہ تعالی تمام شیطانی روحوں کو ہٹا دے گا اور تمہاری سب مشکلات کو دور کر دے گا۔ اب یہ رویا 1914 ء یا 1915 ء کا ہے اور کئی دفعہ الفضل میں چھپ چکا ہے۔ اِس رویا کی وجہ سے میں اپنی اہم تحریروں میں یہ لکھا کرتا ہوں کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ بہر حال اس فتنہ کا ہر پہلو میری سچائی کی دلیل ہے۔ خدا تعالیٰ نے آج سے اکیس سال پہلے مجھے بتا دیا تھا کہ سیالکوٹ کے بعض لوگ اس فتنہ میں حصہ لیں گے اور پھر اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ جہاں بعض فتنہ پرداز سیالکوٹ کے ہوں گے وہاں سیالکوٹ میں بعض مخلص لوگ بھی ہوں گے جو میری تائید میں کھڑے ہوں گے۔ چنانچہ دیکھ لو اسی طرح واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ بلکہ اور خاندانوں میں سے مخلصوں کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے خود اللہ رکھا کے دو بھائیوں نے لکھ دیا کہ وہ منافق ہے۔ پھر عبدالوہاب اور فیض الرحمان فیضی کے متعلق بھی مجھے پہلے سے اطلاع دے دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ میری بعض بیویوں کے رشتہ دار فتنہ کھڑا کریں گے اور بعض تو صرف خلافت کی مخالفت کریں گے اور بعض یہ منافقت بھی کریں گے کہ میرے بعض بیٹوں کی تعریف کریں گے۔ چنانچہ فیض الرحمان فیضی کے متعلق اُس کی بہن کے داماد نے شہادت بھیجی ہے اور اُس پر ایک سینئر سب حج سے دستخط کروائے گئے ہیں جس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُس نے یہ تحریر میرے سامنے لکھی ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ میری بیوی کے ایک ماموں