خطبات محمود (جلد 37) — Page 339
1956ء 339 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہمیں آئندہ دو سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ اشتعال انگیزی نہیں بلکہ قرآنی آیت کا ترجمہ ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی۔ اور کمائی میں سارے اعمال شامل ہیں۔ فرض کرو کہ وہ شخص چوری کرے اور اس کے نتیجہ میں جیل خانہ میں چلا جائے ۔ دوسال کے بعد ہم اسے جھوٹا کرنے کے لیے جیل خانہ سے کیسے لائیں گے۔ یا فرض کرو اسے بیرونی ممالک میں ترقی کے سامان نظر آئیں اور وہ مثلاً امریکہ چلا جائے۔ یا فرض کرو گورنمنٹ پاکستان اُس کی کسی بات پر خفا ہو کر اُسے ملک سے باہر نکال دے ہمیں اس کا کیا پتا ہے۔ پس جو بات قرآن کریم نے کہی ہے وہی میں نے کہی ہے کہ کل ہم تمہیں کہاں سے لائیں گے۔ اب یا تو پاکستان میں قرآن کریم سے اِس آیت کو نکال دیا جائے اس لیے کہ اس میں دھمکی دی گئی ہے۔ اگر اس کا ترجمہ کرنا دھمکی ہے تو یہ آیت بھی دھمکی ہے۔ اسے فوراً قرآن کریم سے نکال دینا چاہیے کیونکہ یہ ہمیں دھمکی دیتی ہے اور خون ریزی سکھاتی ہے۔ ورنہ اس فقرہ کے کہ ہم تمہیں دو سال کے بعد کہاں سے لائیں گے یہ معنے کیسے ہو سکتے ہیں کہ لوگو! تم اسے مارو۔ جبکہ قرآن خود فرماتا ہے کہ کسی شخص کو خود قانون ہاتھ میں لے کر مارنا منع ہے۔ یہ کام حکومت کا ہے نہ کہ افراد کا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی۔ اس لیے ممکن ہے کہ آئندہ دوسال میں وہ مجرم کر کے جیل خانہ میں چلا جائے یا اُس سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو کہ حکومت اُسے مُلک بدر کر دے یا وہ خود اپنی مرضی سے باہر چلا جائے یا وہ کسی ایسے فعل کا مرتکب ہو کہ اُس سے ناراض ہو کر اُس کی قوم اُس کا بائیکاٹ کر دے جس کی وجہ سے اُس تک پہنچنا مشکل ہو جائے ۔ پس میں نے قرآن کریم کی آیت وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا کا ترجمہ کیا ہے۔ اس کے کوئی معنے کر لو اس میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک میں چلا جائے یا کوئی مجرم کر کے جیل خانہ میں چلا جائے یا کسی جرم کی بناء پر حکومت اُسے ملک بدر کر دے۔ اس قسم کی بیسیوں باتیں اس آیت سے نکل سکتی ہیں اور میں نے اپنی تحریر میں اس کی طرف مجملاً اشارہ کیا ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ انبیاء بھی تو آئندہ کے متعلق پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں