خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 223

1956ء 223 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور کسی علاقہ کے مسلمان کو بھی ہم اپنی دعا سے محروم نہیں کرتے۔ یہ کتنا عظیم الشان فائدہ ہے جو اس دعا کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ كُلُّ صَيْدٍ فِي جَوْفِ الفَرَاءِ فَرَاء 2 کے پیٹ میں سارے شکار شامل ہیں۔ اسی طرح یہ دعا ایسی ہے کہ نہ آتا اس سے باہر رہتا ہے اور نہ اُمتِ محمد یہ کا کوئی اور فرد باہر رہتا ہے۔ پس یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا حربہ ہے جس کے استعمال میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔ اور اتنی کثرت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑک اُٹھے اور وہ مسلمانوں کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے ۔ اور جس طرح اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و آلا وسلم کے وقت میں کیا تھا تھا اُسی اُسی۔ طرح وہ اب بھی کرے۔ چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے موسی آئے جو اسحاق کی نسل میں سے تھے۔ اسی طرح داوڑ آئے ، سلیمان آئے ، حزقیل آئے، یرمیاہ آئے ، یسعیاہ آئے ، زکریا آئے، عیسی آئے۔ یہ سارے کے سارے حضرت اسحاق کی نسل میں سے تھے۔ پھر جس طرح کہتے ہیں سو سُنار کی ایک لوہار کی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیج دیا جو ان ساروں سے بڑھ گئے ۔ اسی طرح یورپین قوموں کو جو اب طاقت حاصل ہے یہ ان وعدوں کی وجہ سے ہے جو اسی جو اسحاق کی نسل سے کیے گئے تھے۔ اگر اب اسمعیل کی نسل سے اُس کے وعدے پورے ہونے شروع ہو جائیں تو یہ اس طرح ختم ہو جائیں جس طرح حزقیل ، بر میاہ ، یسعیاہ ، زکریا اور بیٹی وغیرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کے ساتھ ختم ہو گئے تھے اور اسلام کو وہ شان و شوکت حاصل ہو جائے گی جو مسلمانوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہے۔ 1 : الاحزاب : 57 )الفضل 29 مئی 1956ء 2 : الْفَرَاء : حمار الوحش : جنگلی گدھا (لسان العرب جلد 7 صفحہ 46 زیر لفظ " الْفَرَا‘)