خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 215

1956ء 215 خطبات محمود جلد نمبر 37 بیٹھ جاتا اور حضرت خلیفہ اول کے پاس جو لوگ علاج کرانے کے لیے آتے وہ اس کی امداد کے خیال سے خرید لیتے۔ چونکہ عام طور پر خربوزے زیادہ سستے ہوتے ہیں اس لیے وہ وہی لے کر بیٹھ جاتا تھا۔ بیچنے والوں نے عام طور پر کچھ قافیہ دار فقرات تجویز کیے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ بلند آواز سے اُن کو دہراتے رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جب ابھی خربوزوں کا موسم نہیں آتا تھا تو وہ کہا کرتا تھا ” لے لو خربوزے مشری دے کو زئے۔ اس طرح وہ لوگوں کو رغبت دلاتا تھا کہ شاید اس طرح وہ اُس سے خربوزے خرید نے لگ جائیں ۔ مگر جب موسم ابھی شروع نہیں ہوتا تھا تو وہ آٹھ آنے وتی خربوزے دیا کرتا تھا اور وہ بھی پھیکے سے ہوتے تھے اور جب موسم شروع ہو جاتا تو دو آنے ولی ایک آنہ ولی بلکہ دو پیسے وٹی بھی خربوزے مل جاتے تھے۔ تو چیز وہی ہوتی ہے لیکن موسم میں آکر چیز مل بھی جاتی ہے اور سستی بھی ملتی ہے۔ یہی حال دینی چیزوں کا ہے۔ مثلاً دعا ہے اللہ تعالی سمیع و خبیر ہے اور وہ دعائیں سنتا ہی رہتا ہے۔ مگر کوئی کوئی وقت ایسے بھی آتے ہیں جب وہ زیادہ دعا ئیں سنتا ہے۔ چنانچہ ایک کوئی ہیں ہے۔ دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی الہام ہوا چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجیے قبول ہے آج 1 حالانکہ دن بھی خدا کے ہیں اور راتیں بھی خدا کی ہیں اور دعائیں بھی وہ ہمیشہ سنا کرتا ہے مگر اس دن کی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالی بھی اس بات پر تیار ہو گیا کہ بندے اس سے مانگیں اور وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرے۔ چنانچہ اُس نے کہا کہ جو دعا کیجیے قبول ہے آج یا مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تہجد کے اوقات میں خدا تعالیٰ دعا ئیں زیادہ سنتا ہے 2 اور رمضان کی بھی آپ نے بڑی تعریف فرمائی ہے۔ خصوصاً آخری عشرہ کی۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا بھی مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے 3 اور آج