خطبات محمود (جلد 37) — Page 180
1956ء 180 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں بھولتا (ضمناً میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی روایات مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں مگر اُس وقت کوئی خاص بات یاد نہیں آتی۔ اب دے۔ مر نہ جائے۔ یہ موقع پر ایک بات یاد آ گئی ہے۔ جن کو شوق ہو وہ لکھ لیں ) ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب آتھم کے متعلق پیشگوئی کی اور اس کی میعاد کا آخری دن آیا تو اُس دن ایک احمدی پٹھان کی زور زور سے رونے اور چیخیں مارنے کی آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ یا اللہ ! اپنے مسیح کو سچا کر یا اللہ ! آج دن ختم نہ ہو جب تک کہ آٹھم حضرت خلیفہ المسیح الاول کے مطب کے ساتھ والے کمرے کا واقعہ ہے جو مسجد مبارک کے سامنے تھا اور جس میں اُن دنوں مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول جس کمرہ میں مطب فرمایا کرتے تھے وہ ایک لمبا سا کمرہ ہوا کرتا تھا اور اُس میں حکیم مولوی قطب الدین صاحب آپ کے کمپاؤنڈر ( COMPOUNDER) کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہو گئی تو پھر وہ خود طبیب بن گئے اور اسی کمرہ کے ایک حصہ میں مطب کرنے لگ گئے۔ دوسرے حصہ میں ہمارے موٹر کا گیراج (GARAGE) بن گیا تھا۔ حضرت خلیفہ اول کے اس مطب کے ساتھ ایک اور کمرہ ہوا کرتا تھا جسے اُس وقت مہمان خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور جس میں وہ پٹھان بھی ٹھہرا ہوا تھا۔ جب آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو اُس نے اور اُس کے بعض ساتھیوں نے مل کر شور مچانا شروع کر دیا کہ یا اللہ ! اپنے مسیح کو جھوٹا نہ کیجیو ۔ یا اللہ! آج دن ختم نہ ہو جب تک کہ آتھم مر نہ جائے۔ اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عصر کے بعد مسجد میں بیٹھ جاتے اور شام تک وہیں تشریف رکھا کرتے تھے آپ نے یہ شور سنا تو فرمایا انہیں جا کر سمجھاؤ کہ کیا خدا کو نہیں پتا کہ اُس نے کوئی پیشگوئی کی ہوئی ہے۔ تم کیوں گھبرا رہے اور خوامخواہ چیخیں مار رہے ہو۔ مگر ادھر تو بعض لوگوں کی یہ کیفیت تھی اور اُدھر چاچڑاں شریف والے غلام فرید صاحب جو ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور جن کے مریدوں میں نواب صاحب بہاولپور بھی شامل تھے ایک دفعہ اُن کے سامنے بعض لوگوں نے آتھم کی پیشگوئی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ وہ اتنے عرصہ میں مر جائے گا