خطبات محمود (جلد 37) — Page 177
1956ء 177 خطبات محمود جلد نمبر 37 طبیعت کی بحالی کے لیے میں کہیں چلا جاؤں وہ پورا نہ ہو سکا۔ گرمی تو کراچی میں بھی ہے لیکن وہاں ہوا چلتی رہتی ہے اور پھر سیکھے لگے ہوئے ہوں تو پھر گرمی سے تکلیف محسوس نہیں ہوتی مگر انہوں نے کہا بجلی تو ہم نے لگا دی ہے مگر آپ کی خاطر نہیں لگائی اپنی خاطر لگائی ہے۔ اس لیے عارضی طور پر ہمیں اس کوٹھی کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ اب میں ایسا بے حیا تو نہیں ہو سکتا تھا کہ دو سال سے جو لوگ کوٹھی بنوا رہے تھے اُن کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہ دیتا۔ میں نے لکھ دیا کہ تم استعمال کر سکتے ہو۔ مگر یہ بتاؤ کہ عارضی کا مفہوم کیا ہے؟ آیا دس دن مراد ہیں یا دس سال مراد ہیں یا دس صدیاں مراد ہیں؟ مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آتا حالانکہ اس کوٹھی میں سولہ کمرے ہیں اور اتنے کمرے گورنر جنرل کی کوٹھی میں بھی نہیں ہیں اور ہماری جماعت کا کوئی بڑے سے بڑا امیر آدمی بھی وہاں ایسا نہیں جس کی کوٹھی کے سولہ کمرے ہوں۔ رامہ صاحب کی وہاں کوٹھی ہے جو ہماری اس کوٹھی کے تیسرے حصہ کے برابر ہے اور نو سو روپیہ ماہوار پر چڑھی ہوئی ہے۔ اگر انہیں کوٹھی کے تیسرے حصہ کی بھی ضرورت ہوتی تو دو تہائی میں ہم گزارہ کر سکتے تھے مگر بار بار پوچھنے کے باوجود وہاں سے کوئی جواب نہ آیا اگر وقت پر جواب آ جاتا تو مجھے بڑی رقم خرچ کر کے چاروں طرف پہاڑوں پر انتظام کرنے کے لیے آدمی دوڑانے کی ضرورت نہ ہوتی ۔ اب جواب ایسے وقت میں آیا ہے کہ نہ تو میں رمضان کی وجہ سے کراچی جا سکتا ہوں اور نہ تھوڑے دنوں کے لیے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے پہاڑ پر جا سکتا ہوں ۔ صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ ربوہ میں رہوں اور میری صحت برباد ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے خدا ایسے دوستوں سے بچائے۔ بہر حال موسم کی خرابی کی وجہ سے میری صحت سخت بگڑ گئی ہے۔ پیچھے تو ایسی حالت ہو گئی تھی کہ مایوسی کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ اور پچھلے سال فالج کے شدید حملہ کے بعد بھی طبیعت اتنی خراب نہیں ہوئی تھی جتنی اس سال ہوئی۔ مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور اس نے ڈاکٹروں کا ذہن اس طرف پھیرا کہ معدہ اور انتڑیوں کی طرف توجہ کرو۔ چنانچہ اس توجہ کے نتیجہ میں اب پہلے سے افاقہ محسوس ہوتا ہے گو پورا آرام تو نہیں آیا۔ مگر اتنی طاقت پیدا ہو گئی ہے گو اب ہزار خرابی کے بعد اور میں مد اور میری صحت برباد کر دینے کے بعد جواب جواب آیا کہ کوٹھی خالی ہے آ جائیں