خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 37

1955ء 37 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہے کہ ہم کھل کر بات کر دیتے ہیں اور دوسرے لوگ کھل کر بات نہیں کرتے ورنہ وہ بھی اس قسم کے عقیدہ کو کفریہ عقیدہ ہی سمجھتے ہیں۔ اگر اس قسم کے بعض کفریہ عقائد کسی کے نزدیک جماعت احمد یہ میں بھی پائے جائیں تو وہ یہی فقرہ اس کے متعلق بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اس پر یہ بات اس دوست کی سمجھ میں آگئی ۔ اگر اُسے اِس طرح نہ سمجھایا جاتا تو یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی ۔ اسی طرح اگر بجائے کسی کو کافر کہنے کے ہم ثابت کر دیں کہ اس میں بعض کفریہ عقائد ہیں تو وہ فوراً مان جائے گا ۔ مثلاً بعض لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں ۔ اگر ہم کہہ دیں کہ تم مشرک ہو گئے ہو تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم کہیں کہ تم میں یہ شرک والا عقیدہ ہے تو اس پر وہ بُرا نہیں منائے گا ۔ بلکہ دوسرے لوگ مثلاً اہل حدیث بھی ہماری تائید کرنے لگ جائیں گے۔ پس ہر زمانہ کے مطابق ایک طریق کلام ہوتا ہے ۔ اگر اُسی طریق کے مطابق گفتگو کی جائے تو بات دوسروں کی سمجھ میں آجاتی ہے ورنہ نہیں۔ جیسے اس زمانہ کی بولی اگر دو سو سال قبل بولی جاتی تو وہ اُس وقت کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی ۔ اسی طرح پرانے طریق پر بات کی جائے تو دوسرے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ پس میں علماء کو کہتا ہوں کہ وہ نئے طریق کلام کو جاری کریں ۔ اور سائنس ، اقتصادیات اور سیاسی ترقی کے نتیجہ میں جو وساوس لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو گئے ہیں اُن کو مد نظر رکھ کر لٹریچر میں جو دلوں میں پیدا ہوگئے ہیں ان مدنظر رکھ کر پیدا ہوگئے ہیں اُن کو مدنظر رکھا تیار کریں۔ اور پھر اسے شائع کرا کے لائبریریوں میں رکھوائیں۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی بعثت کا مقصد پورا ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم موجودہ وساوس کو ڈور نہ کریں اور اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے ان کا ازالہ نہ کریں تو ہمارا لٹریچر مفید نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اب زبان ہوسکتا۔ بدل چکی ہے۔ حضرت نانا جان اہل حدیث خیالات کے تھے۔ ایک دن حضرت خلیفتہ المسح الاول کے درس حدیث میں تیموں کی کفالت کا ذکر آ گیا تو آپ کو یہ بات بہت پسند آئی ۔ آپ لنگر خانہ میں گئے اور وہاں سے ایک یتیم بچہ کو ساتھ لے لیا اور گھر جا کر اس کی خاطر و مدارت شروع کر دی۔ لیکن وہ لڑکا کسی اور بولی کا عادی تھا وہ نانا جان کا رویہ دیکھ کر نخرے کرنے لگا۔ ایک دن آپ نے اسے کہا کہ آؤ ناشتہ کر لو۔ وہ کہنے لگا میں ناشتہ نہیں کرتا ۔ آپ کہتے یہ چیز لے لو تو وہ کہتا میں یہ چیز کہتے