خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 34

1955ء 34 خطبات محمود جلد نمبر 36 وابستگی کے بعد آتا ہے پہلے نہیں ۔ لیکن پلاؤ ، زردہ اور دوسری مادی چیزوں کا مزہ عادت کے بعد نہیں ہوتا ۔ ہزاروں میں سے کوئی ایسا شخص ملے گا جو کہے گا مجھے ان میں مزہ نہیں آتا۔ باقی لوگ ایسے ہی نکلیں گے جن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ لیکن روحانی چیزوں کا مزہ مشق کے ساتھ آئے گا ۔ پھر روحانی چیزوں کا مزہ دوسروں کو چکھا یا نہیں جا سکتا ۔ لیکن دنیوی چیزوں کا مزہ چکھایا جا سکتا ہے ۔ گویا اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے پتا نہیں کہ پلاؤ کا کیا مزہ ہے تو ہم اسے پلاؤ دے سکتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے نماز کے مزہ کا علم نہیں تو اسے ہم اپنی نماز کا کوئی حصہ نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ اس کے لئے ذاتی طور پر عادت ڈالنا اور توجہ کرنا ضروری ہے ۔ پس جب کسی جماعت کو مادی ترقیات حاصل ہوتی ہیں تو روحانی مزے کم ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ اول تو یہ مخفی ہوتے ہیں ۔ پھر دوسروں کو چکھائے نہیں جا سکتے ۔ اس لئے جب شان و شوکت کا زمانہ آتا ہے تو یہ صرف چند لوگوں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ باقی لوگ زمانہ کی رو کے ساتھ بہہ جاتے ہیں ۔ اس وقت یہ دور نہایت خطرناک طور پر آیا ہوا ہے۔ جتنی دولت اس وقت موجود ہے اور جتنے زمین کے مخفی خزانوں کو اس زمانہ میں ظاہر کیا گیا ہے پہلے نہیں کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں زمین اپنے سارے خزانے باہر پھینک دے گی ۔ تمام زمین کھودی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہو گا باہر آ جائے گا 1 ۔ اور پھر صرف زمین کی مخفی چیزوں کو ہی ظاہر نہیں کیا جائے گا بلکہ آسمان کا چھلکا بھی اُتارا جائے گا 2 ۔ اور جو چیزیں فائدہ پہنچانے والی ہیں وہ جمع کر لی جائیں گی ۔ مثلاً سورج کی گرمی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ کا سمک ریز ہیں ان گی۔ سے فائدہ کاسمکہ کے ذریعہ سورج کی شعاعوں سے کام لیا جاتا ہے۔ اب ان شعاعوں سے ایک خاص طاقت پیدا کی گئی ہے۔ جن سے کارخانوں کو چلایا جائے گا اور ہوائی جہازوں کو تباہ کیا جا سکے گا ۔ پس جتنی دولت اور سامان اس وقت مہیا کئے گئے ہیں پہلے نہیں تھے۔ ان کے مقابلہ میں روحانی مزہ ایک مخفی چیز ہے۔ ایک شخص کو بے شک روحانی تسکین اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو رہا ہو وہ تسبیح کر رہا ہو اور اس میں لذت محسوس کر رہا ہو۔ لیکن دوسرے لوگوں کو اس کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی نے انگور کا مزہ نہیں چکھا تو اُسے انگور کا مزہ چکھایا جا سکتا ہے۔ لیکن روحانی لذت سے کسی کو واقف نہیں