خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 29

1955ء 29 خطبات محمود جلد نمبر 36 خانہ کعبہ میں آکر قربانی کرے وہ بڑا نیک آدمی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی ہوتا ہے بعض لوگوں کے نزدیک اگر کوئی شخص جمعرات کی روٹی کسی ملا کو دے دیا کرے یا فاتحہ خوانی کروا دیا کرے تو وہ اچھا سمجھا جائے گا۔ چاہے وہ اور کوئی نیک کام نہ کرے۔ پھر بعض لوگ ایسے ملیں گے جو حج کو بہت اچھا عمل سمجھتے ہیں ۔ اگر کوئی حج کر آئے تو وہ سمجھیں گے یہ بہت اچھا آدمی ہے۔ بعض طبائع تسبیح کو اچھا سمجھتی ہیں ۔ تم اپنے ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ لو تو وہ تمہارے متعلق کوئی بُرا خیال دل میں نہیں لائیں گے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس شخص پر قربانی کا بہت اثر ہے اس لئے آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ سب قربانیاں باہر نکال کر صفوں میں کھڑی کر دی جائیں ۔ جب وہ شخص آیا اور اس نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا۔ اور اس نے اہلِ مکہ کو جا کر کہا میں نے مسلمانوں کو جا کر دیکھا ہے وہ بے شمار جانور اپنے ساتھ لائے ہیں تاکہ یہاں آکر قربانی کریں ۔ اگر تم نے انہیں کچھ کہا تو تم تباہ ہو جاؤ گے ۔ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے متعلق مشرکین مکہ کے دلوں میں جو بغض تھا وہ کم ہو گیا۔ اسی طرح تبلیغ میں بھی صرف حوالوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مبلغ کو لوگوں کے حالات کا مطالعہ کر کے انکے مطابق تبلیغی کام سرانجام دینا چاہیے ۔ مگر ہمارے ہاں بھیڑ چال سی پائی جاتی ن میں کام سرانجام ہے۔ نفسیات کے ماہرین نے تجربہ کیا ہے کہ بھیڑیں ایک دوسرے کی نقل کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک گلہ بھیڑوں کا لیا اور ایک جگہ پر ایک رسی باندھ دی۔ اور ان بھیڑوں کو پیچھے سے دھکیلا اور اس رسی پر سے گزارنا چاہا۔ جب پہلی بھیڑ رسّی کے پاس پہنچی تو وہ رسی دیکھ کر اُس پر سے گو دگئی ۔ پھر دوسری آئی وہ بھی گو د گئی ۔ پھر انہوں نے رسی اُتار دی ۔ لیکن گلہ کی پانچ چھ سو بھیڑیں باری باری اُس جگہ پہنچ کر گو دیں ۔ گویا ان کے آگے رسی بندھی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہاں رستی نہیں تھی ۔ صرف پہلی بھیڑ کی نقل میں دوسری بھیڑیں باری باری اُس جگہ سے گو درہی تھیں ۔ یہیں سے بھیڑ چال کا محاورہ بن گیا ہے۔ اگر کسی جماعت میں اس قسم کی بھیڑ چال پیدا ہو جائے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی بھیڑ چال پائی جاتی ہے۔ ذمہ دار کارکن سوچتے نہیں ۔ وہ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ کوئی نیا مسئلہ نکالتے ہیں ۔ وہ صرف پہلوں کی نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ زمانہ کے حالات متغیر ہو چکے ہیں ، زمانہ بدل گیا ہے ، تمدن پہلے کی نسبت ترقی کر چکا ہے ۔ ۔ اب