خطبات محمود (جلد 36) — Page 274
1955ء 274 خطبات محمود جلد نمبر 36 صدمہ ہوا اور اس صدمہ کی وجہ سے میری صحت پر بھی برا اثر پڑا۔ بھوک یکدم بند ہوئی اور ٹانگیں کا پینے لگ گئیں اور چلنا مشکل ہو گیا ۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہوا ہے۔ یہ واقعہ بہر حال ہونا تھا کیونکہ ہر انسان نے ایک نہ ایک دن ضرور مرنا ہے۔ لیکن وہی حضرت مسیح علیہ السلام والی بات ہے کہ روح تو خدا تعالیٰ کا حکم ماننے کے لیے تیار ہے لیکن جسم کمزور ہے۔ پس یہ واقعہ غیر معمولی نہیں لیکن مجھے یہ خیال آتا ہے کہ مرنے والے تو بہر حال مرتے چلے جائیں گے ہمیں قومی زندگی کو قائم رکھنا چاہیے ۔ یورپ میں ایک شخص مرتا ہے تو دس آدمی اُس جگہ پر کام کرنے کے لیے آجاتے ہیں ۔ اس لیے انہیں مرنے والے کی موت کا زیادہ احساس نہیں ہوتا ۔ دیکھو جرمنی کے بادشاہ ولیم سے جرمنوں کو اتنا عشق تھا کہ وہ اُس پر اپنی جانیں دیتے تھے مگر جب اتحادیوں نے اُسے شکست دے دی تو ہٹلر پیدا ہو گیا۔ پھر ہٹلر سے جرمنوں کو اتنا عشق ہوا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کی پرستش کرتے ہیں لیکن جب ہٹلر چلا گیا تو ایڈ نائر 3 پیدا ہو گیا۔ پس اگر مرنے والے کے بعد اُس کی جگہ لینے کے لیے اور آدمی پیدا ہوتے رہیں تو قو میں مرتی نہیں زندہ رہتی ہیں۔ دیکھو ! امریکہ میں ایک وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پریذیڈنٹ روز ویلٹ کے بعد معلوم نہیں امریکہ کا کیا بنے گا۔ لیکن روز ویلٹ ایک دن یک دم مر گیا ۔ اُس کا بھی ہارٹ فیل ہوا تھا اور وہ نہاتے نہاتے مر گیا تھا۔ لیکن لوگوں نے اُس کی موت کو زیادہ اہمیت نہ دی کیونکہ دوسرے لوگ اُس کی جگہ کام کرنے کے لیے آگئے ۔ گویا گاڑی کے گھوڑے گرتے پیچھے ہیں اور اُس میں جتنے والے گھوڑے پہلے آگے آجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کی ہمت پست نہیں ہوتی اور اس کا کام جاری رہتا ہے۔ اگر ہماری جماعت میں بھی ایسا ہی ہو تو گومرنے والے سے سے تعلق ہونے کی وجہ سے اُس کی موت کا صدمہ ضرور ہو گا ۔ مگر وہ صدمہ ایسا ہو گا جس کے ساتھ خوشی بھی ہوگی کہ قوم زندہ ہے۔ دیکھو رسول کریم ﷺ سے بڑا وجود اور کون ہوگا ۔ مسلمانوں کے لیے تو خدا تعالیٰ کے بعد آپ ہی سب کچھ تھے۔ آپ ہی خدا تعالیٰ کا دنیا میں ظہور تھے۔ چنانچہ آپ کی وفات پر