خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 213

1955ء 213 خطبات محمود جلد نمبر 36 کے صحابہ میں سے تھے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں سال میں ایک احمدی نہیں سو احمدی بناؤں گا ۔ چنانچہ جب وہ اگلے جلسہ پر آئے تو اُس وقت ایک آدمی اُن کے ساتھ تھا جسے وہ بیعت کرانے کے لیے ساتھ لائے تھے ۔ انہوں نے کہا آپ دفتر سے معلوم کر لیں میں 99 افراد کی بیعت پہلے کراچکا ہوں اور اب یہ سوال آدمی ہے جسے میں بیعت کرانے کے لیے لایا ہوں ۔ میرا وعدہ پورا ہو گیا ہے ۔ مولوی محمد عبداللہ صاحب بے شک مولوی کہلاتے تھے لیکن تھے وہ ایک عام زمیندار ۔ ویسے انہیں تبلیغ کا بہت شوق تھا ۔ اب دیکھو ! اگر ایک زمیندار سال میں ایک سو آدمی احمدیت میں داخل کر اسکتا ہے تو ایک مبلغ کو تو سال میں سواحمدی بنا کر بھی شرم محسوس کرنی چاہیے۔ پس تم ایک یا دو آدمیوں کو احمدی بنا لینے پر خوش نہ ہو۔ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ۔ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی 6 - کہ میرا بندہ جس طرح کا گمان مجھ پر کرتا ہے میں اُس کے مطابق اُس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں ۔ اگر تم ایک آدمی پر خوش ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک آدمی دے گا ، دو پر خوش ہو گے تو وہ تمہیں دو دے دے گا۔ لیکن اگر تم ایک کروڑ پر بھی راضی نہ ہو اور یہ دعا کرو کہ اے خدا! میں تو تبھی خوش ہوں گا جب تو مجھے پچاس کروڑ دے تو خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ اس کے مطابق سلوک کرے گا ۔ پس تم اس بات پر فخر نہ کرو کہ تمہارے ذریعہ ایک یا دو آدمی احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں بلکہ تم اُس وقت تک خوشی محسوس نہ کرو جب تک کہ تم ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں افراد کو احمد بیت میں داخل نہ کرلو۔ تم دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اُس نے مجھے الہاما بتایا سندھ سے پنجاب تک دونوں طرف متوازی نشان دکھاؤں گا۔ اُس نے یہ فقرہ مجھ جیسے کمزور انسان کے منہ سے جو نبی بھی نہیں نکلوایا اور پھر اُس نے اس الہام کو اس شان سے پورا کیا کہ دشمن بھی چلا اٹھا کہ یہ طوفان نوح کے طوفان کی طرح تھا۔ حضرت نوح علیہ الہ بہت بڑے نبی تھے۔ لیکن اس نے مجھ جیسے کمزور آدمی کے منہ سے وہی بات نکلوائی اور پھر اُسے پورا بھی کر دیا۔ یہ محض اُس کی دین ہے ورنہ اپنی ذات میں میں کچھ بھی نہیں ۔ تھا کہ پھر تم یہ دعا بھی کرو کہ اللہ تعالی آئندہ ہمارے ملک کو ایسے عذابوں سے محفوظ رکھے اور وہ اسے تباہ کرنے کی بجائے ترقی عطا فرمائے ۔ کیونکہ جو ذات تباہ کرسکتی ہے وہ اسے بچا بھی سکتی ہے۔