خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 144

1955ء 144 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس میں کیا قصور ہے۔ خود مسلمان اپنے مذہب سے واقف نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اپنی امت انہیں شمشیر کا نبی قرار دیتی ہے۔ پس آپ کہتے جائیے کہتے کہتے ایک دن دنیا سمجھ جائے گی ۔ بہر حال یہ تحریک ہے جو میں جماعت میں کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر ہم اسلام کی اشاعت میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ آخر اپنے دلوں میں سو چوا ور غور کرو کہ اگر وقف کا سلسلہ جاری نہ رہے تو تمہارا یہ دعویٰ کہ اسلام دنیا پر غالب آ جائے گا کس طرح سچا سمجھا جا سکتا ہے؟ یہ تو ہو گا نہیں کہ ایک دن صبح اٹھ کر تم تسبیح پر تین دفعہ سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ کہو گے اور امریکہ کا پریذیڈنٹ اور کونسل آف سٹیٹ کے سب ممبر مسلمان ہو جائیں گے اور وہ اعلان کر دیں گے کہ ہم عیسائیت کو ترک کرتے ہیں ۔ اگر ہم نے واقع میں اسلام پھیلانا ہے تو بہر حال ہمیں جدو جہد کرنی ا پڑے گی اور چھری سے چھری رگڑنی پڑے گی ۔ حضرت خلیفة المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ بھوپال میں ایک بزرگ تھے جن کے پاس میں اکثر آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ کسی وجہ سے اُن کے پاس جانے میں دیر ہوگئی ۔ چند دن بعد جو میں انہیں ملنے گیا تو فرمانے لگے ۔ نورالدین ! کبھی تم نے قصاب کو گوشت کا ٹتے بھی دیکھا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ بارہا دیکھا ہے۔ فرمانے لگے تم نے دیکھا ہوگا قصاب گوشت کاٹتے کاٹتے تھوڑی تھوڑی وڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک چھری کو دوسری چھری سے رگڑ لیتا ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ وہ اس لیے رگڑتا ہے کہ گوشت کاٹتے کاٹتے چھری کی دھار چربی لگنے کی وجہ کچھ گند ہو جاتی ہے۔ جب وہ دوسری چھری سے اُسے رگڑتا ہے تو وہ پھر تیز ہو جاتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ کو بنایا ہے ۔ جب دو دماغ ملتے ہیں تو اُن کی باہمی رگڑ سے وہ دونوں تیز ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ تمہیں بھی دین سے محبت ہے اور ہمیں بھی محبت ہے اس لیے جب تم آتے ہو تو تمہارے ساتھ باتیں کر کے میں اپنے دماغ میں ایک نئی روشنی محسوس کرتا ہوں ۔ اب کر ۔ کچھ دنوں سے تم نہیں آئے تو میں محسوس کرتا تھا کہ میرا دماغ گند ہوتا جا رہا ہے۔ تم آگئے ہو تو پھر تم سے باتیں کر کے میرا دماغ تیز ہو جائے گا۔ سے تو حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت کے لیے جب تک صحیح رنگ میں کوشش نہ ہو اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر احمدی کو یہ