خطبات محمود (جلد 36) — Page 112
1955ء 112 خطبات محمود جلد نمبر 36 آگے فرمایا کہ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ 4 یعنی اچھی سے اچھی نظر آنے والی چیز میں بھی کوئی نہ کوئی برائی کا پہلو مخفی ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی شر پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا تھا ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے بعد بھی ایسے مواقع آسکتے ہیں جب انسان مَغْضُوبِ عَلَيْهِ ہو جائے یا صحیح راستہ سے بھٹک جائے ۔ اسی طرح گو یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک چیز اچھی ہو اور اس میں سے شر پیدا ہو جائے ۔ مگر در حقیقت یہ بات ناممکن نہیں ۔ بائیبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہم تجھے اتنی اولا د دیں گے کہ وہ آسمان کے ستاروں کی طرح گئی نہیں جائے گی 5 ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اولا د بھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اسی طرح بیویوں کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا 6 یعنی ہم نے تمہاری بیویاں اس لئے بنائی ہیں کہ تم ان کے ذریعہ سکون حاصل کرو ۔ مگر وہی نعمت جس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے وعدہ کیا گیا تھا اور وہی چیز جو بنی نوع انسان کے سکون کا باعث ہے اس کے متعلق دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ [ تمہارے اموال اور تمہاری اولا دیں بھی کبھی کبھی تمہاری آزمائش کا موجب ہو جاتی ہیں ۔ تو وہی چیز جو ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے بعض دو حالات کے ماتحت تکلیف کا موجب ہو جاتی ہے۔ پس مومن کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اُس نے جو نعمتیں عطا کی ہیں وہ اس کی ٹھوکر کا موجب نہ ہو جائیں ۔ دوسرے میں یہاں کے دوستوں کو خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سبق کو جو قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں بتایا گیا ہے یا د رکھیں ۔ یہاں زیادہ تر نوجوان ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کے لئے فتنہ بن جائیں اور ان کی قائم کی ہوئی نیکیوں کو خراب کر دیں ۔ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ ابو جہل کی پیدائش پر اس کے ماں باپ نے کتنی خوشیاں منائی ہوں گی ۔ مگر جب ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلایا گیا ہوگا، جب اونٹنیاں ذبح کی جا رہی ہوں گی، نفیریاں 8 بجائی جارہی ہوں گی ، جب خوشیوں کے نعرے لگائے جارہے ہوں گے، اُس وقت آسمان کے فرشتے کہہ رہے ہوں گے کہ لعنت ہے اس لڑکے پر جس نے خدا کے ایک عظیم الشان اکے نبی کو دکھ دینا ہے۔ پس قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے سبق کو یا درکھو۔