خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 100

1955ء 100 خطبات محمود جلد نمبر 36 کرتے ہیں وہ یہ نہ کر سکیں ۔ وہ تو کماتے ہیں اور اس میں سے مہمانوں کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں اور یہاں کے نوجوانوں کو جو بالعموم طالب علم ہیں اور جو اپنے اخراجات اکثر اپنے ماں باپ سے ہی لیتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ جب کمانے والے یہ قربانی کر سکتے ہیں تو ان کے بچے ویسی ہی قربانی یہاں نہ کریں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ اس موقع پر اس رنگ میں خدمت کریں کہ سلسلہ کے لٹریچر کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو ۔ پھر کھانا کھلانے میں ہر طرح کی مدد کریں ۔ آج کل کے کام کی ترقی کا اصول یہ ہے کہ کام کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ رہے اور ادب و احترام کے ساتھ ہر طرح کی خدمت کی جائے ۔ اور اگر کسی کو کوئی تکلیف ہو تو اُس پر مناسب معذرت کی جائے ۔ لٹریچر کی اشاعت کے علاوہ عید فنڈ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔ لندن میں اگر چندہ با قاعدہ طور پر جمع ہو تو تقریباً سو پونڈ ماہوار آسانی سے جمع ہو سکتا ہے۔ مگر یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جب سب مل کر کام کریں۔ مجھے یاد ہے کہ کشمیر میں جب کشتی کو جھیل سے دریا میں منتقل کیا جاتا ہے تو پانی مجھے کہ کی سطح دوسری طرف اونچی ہونے کی وجہ سے غیر معمولی طور پر زور لگانا پڑتا ہے ۔ ایسے موقع پر ہے ۔ کشتی کے سارے مرد مل کر لا إِلهَ یا لِلهِ " کا نعرہ لگاتے ہیں اور وہ مل کر کشتی کو کھینچتے ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ جب کشتی اس طرح سے کھنچ نہ سکے تو سب مل کر " یا شیخ حمدان " کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اور اگر اس پر بھی نہ کھینچ سکے تو سب مل کر " یا پیر دستگیر " کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ چونکہ اُن لوگوں میں خدا کی نسبت پیر دستگیر کے لیے زیادہ جذباتی تعظیم ہوتی ہے اس لئے اس نعرہ کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ نہ صرف مرد بلکہ تمام عورتیں اور بچے بھی کشتی کو دھکیلنا شروع کر دیتے ہیں اور کشتی پار ہو جاتی ہے۔ پس اگر یہاں بھی سب مل کر کام کریں تو انشاء اللہ خوشگوار نتائج نکلیں گے۔“ وو )الفضل 23 اگست 1955ء