خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 57

خطبات محمود 57 1954ء دوسری قوموں پر نہیں۔ لیکن اگر تمہارا ایمان مضبوط ہے تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ کئی قو میں بعد میں آئیں گی اور یہ بوجھ اُٹھائیں گی لیکن آج ہم اکیلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ و اور اسلام کے سامنے کھڑے ہو کر تیر کھا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہی ہے کہ وہ شخص جو اس وقت اس قربانی میں حصہ لیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے ہی مقام پر کھڑا ہے جس کھاتا ہے۔ اور وہ مقام پر حضرت طلحہ جنگِ اُحد کے موقع پر کھڑے تھے۔ آج بھی اسلام پر دشمن کی طرف سے تیر پڑ پڑا رہے ہیں ۔ جو جو شخص حصان اشاعت اسلام میں حصہ لیتا ہے وہ اپنی چھاتی پر تیر کھاتا اُس مقام پر پر کھڑا ہوتا ہوتا ہے جس پر حضرت طلحہ کھڑے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے متعلق فرما رہے تھے کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان! تو اور قربانی کر ۔ یہ خوش قسمتی کے دن کبھی کبھی آتے ہیں اور کسی کسی قوم کو ملتے ہیں۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو ان دنوں سے فائدہ اُٹھائیں اور مبارک ہیں وہ لوگ جو اس خدمت کو انعام سمجھیں نہ کہ بوجھ۔ چونکہ یہ خطبہ دیر سے شائع ہو گا اور وعدوں کی میعاد قریب الاختتام ہو گی اس لیے دوستوں کو کام کا مزید موقع دینے کے لیے میں وعدوں کی آخری میعاد 15 فروری کی جگہ 23 فروری مقرر کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ احباب کو توفیق بخشے کہ وہ زیادہ سے زیادہ خدمت دین اور اشاعت اسلام میں حصہ لے سکیں۔ اللهم آمین ۔“ 1 : بخاری کتاب المغازى باب غزوة أحد المصلح و فروری 1954 ء) 2 : البدايه والنهايه لابن كثير جلد 3 جزء 6 صفحہ 205- قاهره 2006 ء اور تاریخ الطبری جلد 3 صفحہ 41 بيروت لبنان 1971ء میں یہ واقعہ حضرت زبیر کے حوالہ سے ملتا ہے۔ 3 : طبقات ابن سعد جلد 2 صفحه 64 کراچی 2012 ( مفہوما) 4: صحيح البخارى كتاب المغازى باب غزوة احد اور اسد الغابہ جلد اول صفحہ 840 میں یہ واقعہ حضرت سعد کے حوالہ سے ملتا ہے۔