خطبات محمود (جلد 35) — Page 329
1954ء 329 خطبات محمود رکتے نہیں اس لیے میں بطور سزا اس قسم کی طلاق کو جائز قرار دے دوں گا ۔ 3 چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور آپ کا ایسا کرنا ایک وقتی مصلحت کے ماتحت تھا اور صرف سزا کے طور پر تھا مستقل حکم کے طور پر نہیں تھا۔ غرض مسلم لیگ پر بہت بڑی ذمہ داری تھی۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ اس قسم کے قوانین کی طرف دستور ساز اسمبلی کو توجہ دلاتی جن کے ذریعہ اسلامی احکام پر عمل کرایا جاتا۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح کرتی اس نے شریعت کے احکام میں اصلاح کرنی شروع کر دی اور یہ فیصلہ کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَعُوذُ بِاللہ مجرم ہیں ۔ یہ کتنی افسوسناک اور شرمناک بات ہے۔ ایسی اسلامی حکومت پر ایک سچا مسلمان کس طرح ناز کر سکتا ہے؟ اگر پاکستان میں اسی قسم کی اسلامی حکومت بنی ہے جس نے اسلامی احکام کو رڈ کرنا ہے اور انہیں ناجائز قرار دینا ہے تو ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ خدا تعالیٰ ایسی حکومت کو بدل دے۔ خدا تعالیٰ نے اس ملک میں دوسو سال کے بعد مسلمانوں کو آزادی بخشی ہے، اس کے کھوئے جانے کی ہم کبھی خواہش نہیں کر سکتے ۔ لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ خدا تعالیٰ اس قسم کے مسلمانوں کو عقلیں بخشے اور ملک کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ بہر حال چونکہ ابھی خدشات باقی ہیں اس لیے تم دعاؤں میں لگے رہو تا خدا تعالی اسلام کو اس قسم کے دشمنوں سے محفوظ رکھے اور ایسے لوگوں کو حکومت نہ دے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی مذمت کرنے والے الفضل 5 نومبر 1954 ء) اور ان پر گند اُچھالنے والے ہوں“۔ 1 : كنز العمال في سنن الاقوال والافعال - المجلد الثامن - الجزء 16 - صفحہ 203 ۔ حدیث نمبر 45581- كتاب النكاح - حرف النون من قسم الافعال كتاب النكاح - الترغيب فيه - بيروت لبنان 1998ء میں تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ کے الفاظ ہیں۔ 2 : صحيح البخارى كتاب الطلاق باب الخلع و كيف الطلاق فيه 3 :صحیح مسلم کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث