خطبات محمود (جلد 35) — Page 326
1954ء 326 خطبات محمود پس حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کی حالت جہالت کی وجہ سے اس حد تک گر چکی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے نزدیک اسلام کی تعلیم یورپین طرزِ عمل کے سامنے قابلِ ندامت ہے۔ ان کے نزدیک ضروری ہے کہ مذہب کو یورپ کے طریقِ عمل کے مطابق بدل دیا جائے اور مسیحیت کی حکومت کو اسلام کے نام سے اس ملک میں قائم کیا جائے۔ گویا تعلیم یافتہ لوگ تو مغرب زدہ ہو۔ ہونے کی وجہ سے مغربیت کو قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے علماء نا علماء نا سمجھی کی وجہ سے دین کو جہالت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ دو ملاؤں میں مرغی حرام۔ ایک طرف تو مغرب زدہ لوگ ہیں اور ایک طرف علماء ہیں اور ان میں سے ایک یورپ کے طرز عمل کو ملک میں جاری کرنا چاہتا ہے اور دوسرا نادانی اور جہالت کے طریق کو، اور اسلام بیچ میں خراب ہو رہا ہے۔ وو پس ابھی مشکلات باقی ہیں اور جس خدا نے انہیں وقتی طور پر ٹالنے کے سامان مہیا کر دیتے ہیں وہ انہیں مستقل طور پر دور کرنے کے سامان بھی مہیا کر سکتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستان کا ہر ایک آدمی آج ہی اپنی اصلاح کر لے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان والے ایسی تعلیموں پر زور نہ دیں جن کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوں، جن کی وجہ سے صحابہ کرام لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوں۔ وہ اس قسم کے قانون نہ بنائیں جن کی وجہ سے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مجرم قرار دیں۔ آخر ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں؟ حضرت ابوبکر نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ حضرت عمر نے کسی مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی کی تھیں؟ حضرت عثمان نے کس مجسٹریٹ سے اجازت سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ حضرت حسن نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زائد شادیاں کی تھیں؟ اسی طرح اور اولیاء اور صوفیاء جو امت میں گزرے ہیں انہوں نے کس مجسٹریٹ سے اجازت لے کر ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں؟ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ اسلام کے اس قانون پر عمل کرنے کے سلسلہ میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں انہیں دور کیا جاتا