خطبات محمود (جلد 35) — Page 289
1954ء 289 خطبات محمود آپ ایڈیٹر صاحب الفضل کو حکم دیں کہ یہ نظم الفضل میں شائع کر دیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایڈیٹر بے وقوف ہے اسے کیا علم ہے کہ یہ کس پایہ کی نظمیں ہیں۔ ان کے رازوں سے الفضل تو بے وقوف دو با صرف خلیفہ مسیح ہی واقف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ نظمیں انہیں ارسال کی جائیں تا وہ انہیں اخبار میں شائع کرنے کا حکم جاری کر دیں۔ میں اس قسم کے لوگوں کو یہی جواب دیتا ہوں کہ آپ براہ راست ایڈیٹر الفضل کو یہ نظمیں ارسال کر دیں۔ میں اُس کے کام میں میں دخل نہیں دیتا۔ حالانکہ وہ نظمیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ہنسی آتی ہے۔ نہ قافیہ ہوتا ہے، نہ ردیف ہوتی ہے، غبن کو گبن اور ”قابل“ کو کابل لکھا ہوا ہوتا ہے اور پھر خواہش ہوتی ہے کہ میں اُن کی اشاعت کے لیے ایڈیٹر الفضل کو حکم بھیجوں ۔ غرض ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ ہر آدمی پیشہ میں ہاتھ ڈالتے ہی اپنے آپ کو اُس کا ماسٹر سمجھنے لگ جاتا ہے۔ حالانکہ ہر پیشہ محنت اور مشق کے بعد آتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں معماری کا پیشہ نسبتاً آسان ہے۔ اس کا ابتدائی حصہ تھوڑے ہی عرصہ میں سیکھا جا کا اسکیچ سکتا ہے۔ محراب بنانا، گنبد بنانا یا سیچ بنانا یہ کام تو جلد نہیں سیکھے جا سکتے ہاں ! زاوئیے بنانا اور اینٹیں لگانا لوگ جلد سیکھ لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک لڑکا تھا جس کا نام فجا تھا۔ اُسے آپ نے کسی معمار کے ساتھ لگایا تھا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ معمار بن گیا تھا۔ اُس میں سمجھ بہت کم تھی ۔ مگر مخلص اور دین دار تھا۔ وہ غیر احمدی ہونے کی حالت میں آیا تھا۔ بعد میں احمدی ہو گیا تھا۔ اُس کی عقل کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ بعض مہمان آئے۔ اُس وقت لنگر خانہ کا کام علیحدہ نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر ہی سے مہمانوں کے لیے کھانا جاتا تھا۔ شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری قادیان آئے۔ ایک دوست اور بھی تھے۔ آپ نے اُن کے لیے چائے تیار کروائی اور مجھے کو کہا کہ وہ مہمانوں کو چائے پلا آئے ۔ اور اس خیال سے کہ وہ کسی کو چائے دینا بھول نہ جائے یہ تاکید کی کہ دیکھو پانچوں کو چائے دینا۔ چراغ پرانا ملازم تھا۔ اُسے آپؐ نے فجے کے ساتھ کر دیا۔ جب دونوں چائے