خطبات محمود (جلد 35) — Page 254
1954ء 254 خطبات محمود کھانے کو بالکل جی نہیں چاہتا۔ بھوک بالکل بند ہے۔ چونکہ وہ ہر کھانے میں سے صرف ایک ایک لقمہ اُٹھا کر کھاتا تھا اس لیے اُسے ایک ہی لقمہ نظر آتا تھا۔ اگر اُس کے سامنے صرف ایک لقمہ ہی کھانا ہوتا اور وہ اس میں سے ہیں پچپیں لقمے کھا لیتا تو کہتا مجھے بڑی بھوک لگتی ہے۔ اسی طرح ہمارے ماموں جان مرحوم ( حضرت میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم) نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ اس نے مجھے کہا مجھے بھوک نہیں لگتی۔ میں نے پتا لگایا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک ایک دن میں ڈیڑھ ڈیڑھ سیر کھا جاتا تھا۔ مگر کھاتا اس طرح تھا کہ مثلاً مرتبہ آملہ اتنا ، معجون فلاسفہ اتنا ، فلاح مفرح اتنی، شربت بنفشہ اتنا ، خمیرہ گاؤزبان اتنا عرق بادیان اتنا۔ میں بنفشہ اتنا، نے کہا تم ڈیڑھ ڈیڑھ سیر روز کھا لیتے ہو اور پھر کہتے ہو بھوک نہیں لگتی ۔ اب دیکھو وہ شخص یہ سمجھتا تھا کہ میں نے کچھ نہیں کھایا حالانکہ مضبوط سے مضبوط آدمی چھ سات چھٹا تک ایک وقت میں کھاتا ہے اور وہ ڈیڑھ ڈیڑھ سیر دن میں کھا کر بھی بھوک نہ لگنے کا شکوہ کرتے تھے۔ غرض ہمارے سب کپڑوں اور کھانوں کی قدر ان نعمتوں کی وجہ سے ہے جو خدا تعالی نے عطا کی ہیں۔ اگر تم اپنی آنکھیں نکال دو یا جسمانی حس مار دو تو خوبصورت اور رڈی کپڑوں میں تمہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہو گا۔ چاہے کپڑا لاکھ روپے گز ہو یا چار آنہ گز ، تمہارے لیے دونوں برابر ہوں گے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہیں وہ بہت زیادہ قیمتی ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ ان سے کام نہیں لیتے۔ دنیا کے سیاستدانوں کو لے لو، جرنیلوں کو لے لو۔ یا بادشاہوں کو لے لو ان کی بڑائی ظاہری مال و دولت کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ ذہانت ، عقل، فکر اور تدبر کی دولت کی وجہ سے تھی۔ میں نے بھی جماعت کو بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ ذہانت اور عقل کو تیز کرے لیکن بار بار توجہ دلانے کے باوجود جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ میں نے خدام میں ایسی مشقیں رکھی تھیں کہ جن کی وجہ سے یہ طاقتیں زیادہ ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بھی اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ مثنوی رومی میں لکھا ہے کہ محمود غزنوی جب ہندوستان کے حملہ سے واپس آ رہا تھا تو راستہ میں بعض لوگوں نے اُس کے پاس شکایت کی کہ آپ نے ایاز کو بڑا جرنیل بنا دیا ہے۔ لیکن یہ بڑا لا پروا ہے۔ محمود اُن کی شکایات سنتا رہا لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب وہ