خطبات محمود (جلد 35) — Page 220
1954ء 220 خطبات محمود مال کھایا ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ جس کے دل میں اپنا مال قربان کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے وہ دوسرے کے مال کو کبھی کھا نہیں سکتا۔ اسی طرح جس شخص کے دل میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ خدا کے لیے بھوکا رہے کس طرح مانا جا سکتا ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا۔ وہ ایک دن نماز نہیں پڑھے گا ، دو دن نماز نہیں پڑھے گا، تین دن نماز نہیں گا، پڑھے گا مگر آخر اس کا نفس اسے کہے گا کہ احمق! تو خدا کے لیے بھوکا رہتا ہے اور پھر اس کا ذکر نہیں کرتا؟ اور وہ مجبور ہو گا کہ نماز پڑھے۔ اور جب وہ نماز پڑھنے لگ گیا تو پھر اسے کوئی ہٹانا بھی چاہے تو وہ نہیں ہٹ سکتا، اسے قید کر دو تو وہ قید میں نماز پڑھنے لگ جائے گا، چار پائی پر باندھ دو تو لیٹے لیٹے نماز پڑھتا رہے گا کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔ پس اصل گر انسانی ترقی کا یہی ہے کہ جو چیز اسے اچھی نظر آئے اُسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ پہلے وہ اپنے دل میں فیصلہ کر لے کہ میں نے اچھی چیز کو لینا ہے اور پھر اُسے چھوڑ نا نہیں۔ اس فیصلہ کے بعد اسے جو چیز بھی اچھی نظر آتی ہے اسے اس نیت کے ساتھ پکڑے کہ اب میں نے اسے چھوڑنا نہیں۔ جب انسان اس مقام پر آ جاتا ہے تو وہ ساری دنیا سے سبق حاصل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے، ایک بچے سے بھی سبق لے لیتا ہے، ایک بوڑھے سے بھی سبق لے لیتا ہے، ایک پاگل سے بھی سبق لے لیتا ہے۔ غرض دنیا کی ہر چیز سے وہ فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ تو بہت بڑے آدمی ہیں اور کی ۔ ساری دنیا آپ سے سبق لیتی ہے۔ کیا آپ نے بھی کسی سے سبق لیا ہے؟ انہوں نے کہا بہت دفعہ لیا ہے اور سب سے بڑا سبق میں نے ایک چھوٹے سے بچے سے لیا ہے۔ اس نے کہا کس طرح؟ انہوں نے کہا وہ اس طرح کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ بارش ہو رہی تھی کہ میں نے دیکھا ایک سات آٹھ سال کا بچہ گزر رہا ہے اور تیز تیز قدم اُٹھا رہا ہے۔ میں نے اسے تیز قدم اُٹھاتے دیکھ کر کہا میاں بچے! ذرا سنبھل کر چلو کیچڑ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم پھسل جاؤ۔ اس لڑکے نے میری طرف دیکھا اور کہا امام صاحب! میرے پھسلنے کا فکر نہ کیجیے۔ آپ اپنا فکر کیجیے۔ اگر میں پھیلا تو صرف میں پھلوں گا لیکن اگر آپ پھیلے تو ساری دنیا پھسل جائے گی۔