خطبات محمود (جلد 35) — Page 212
1954ء 212 (22) خطبات محمود اگر دین دار بننا چاہتے ہو تو ان سارے طریقوں کو اختیار کرو جو دینی ترقی کے لیے ضروری ہیں (فرموده 20 راگست 1954ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ بنی اسرائیل کی درج ذیل آیت تلاوت فرمائی: كَلَّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ، وَمَا كَانَ عَطَاءِ رَبِّكَ مَحْظُورًا 1 اس کے بعد فرمایا: بہت سے لوگ دنیا میں اس دھوکا میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر خدا ہے اور مذہب ہے تو شاید ان کی دنیوی کوششیں بیکار اور فضول ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف جائز یا ناجائز ، هیچ یا غلط، سچی یا مصنوعی توجہ کر کے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور بعض نادان اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہے، سائنس ہے، دنیوی کوششیں اور ان کے نتائج ہیں۔ خدا تعالیٰ کا لوگوں نے ایک ڈھکوسلا بنایا ہوا ہے جس میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ماتا ہے کہ كُلَّا نُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هَؤُلَاءِ ہمارے دو قانون دنیا میں جاری ہیں۔