خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 11

1954ء 11 خطبات محمود اور تھکان بھی ہوتی ہے مسجد میں جانا شاید مشکل ہو جائے لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا تھا کہ دوست مل لیں تا کہ میرا یہاں رہنا میرے لیے بھی اور ان کے لیے بھی مفید ہو جائے۔ اس لیے مسجد کی بجائے میں نے آپ لوگوں کو یہاں نماز پڑھنے کی تحریک کی۔ جہاں تک اسلامی احکام کا سوال ہے بہترین جگہ نماز کی مسجد ہی ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں ہر چیز اپنی روایات کو اپنے ساتھ لیے پھرتی ہے۔ اگر کسی دشمن کا بچہ نظر آ جاتا ہے تو اس کو دیکھتے ہی انسان کے دل میں اُس دشمن کی دشمنیاں بھی گزر جاتی ہیں۔ اور اگر کسی دوست کا بچہ نظر آ جاتا ہے تو اس کو دیکھتے ہی اُس دوست کی محبت اور اُس کا حُسنِ سلوک بھی یاد آ جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی روایات میں سے ایک روایت ہے کہ مجنوں کو کسی نے دیکھا کہ اس نے ایک کتے کو گود میں بٹھایا ہوا ہے اور اُس سے پیار کر رہا ہے۔ اُس نے کہا قیس! تم تو ایک بڑے خاندان کے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم یہ کیا حرکت کر رہے ہو کہ ایک کتے کو تم نے گود میں بٹھایا ہوا ہے اور تم اس سے پیار کر رہے ہو؟ قیس نے بے ساختہ جواب دیا کہ میں کتے کو تو پیار نہیں کر رہا، میں تو لیلی کے کتے کو پیار کر رہا ہوں۔ یعنی تمہیں وہ گتا نظر آتا ہے لیکن مجھے یہ نظر آتا ہے کہ لیلیٰ کے ساتھ اس کی وابستگی ہے۔ اِس لیے اِس کو دیکھتے ہی لیلیٰ کی یاد میرے دل میں تازہ ہو جاتی ہے۔ مسجد بھی بظاہر اینٹوں کی بنی ہوئی ایک چیز ہے، چونا کی بنی ہوئی ایک چیز ہے، گارے کی بنی ہوئی ایک چیز ہے، لکڑی کی بنی ہوئی ایک چیز ہے۔ اور جہاں تک مساجد کا تعلق ہے لاہور کے ہزاروں ہزار مکان ان سے زیادہ بہتر مٹیریل سے بنے ہوئے ہیں۔ اگر صرف ایک احاطہ کو دیکھا جائے، اگر صرف چھتوں کو دیکھا جائے، اگر صرف عمارت کو دیکھا جائے ، اگر صرف دروازوں کو دیکھا جائے تو لاہور کی اکثر مساجد سے یہاں کی اکثر کوٹھیاں زیادہ شاندار نظر آئیں گی۔ لیکن ایک مومن جس وقت مسجد میں جاتا ہے تو معاً اس کی اینٹ اور گارا اور لکڑی اور چونا اُس کے دل سے غائب ہو جاتا ہے اور اُس کو یہ نظر آتا ہے کہ اس گھر میں پانچ وقت میرا خدا اُترا کرتا ہے۔ مسجد کے علاوہ دوسری کوئی ایسی جگہ نہیں ہوتی جس کو دیکھتے ہی اُس کے دل پر یہ اثر پڑے کہ میرا محبوب اور میرا آقا اس جگہ پانچ وقت آیا کرتا ہے۔