خطبات محمود (جلد 34) — Page 85
1953ء 85 خطبات محمود دوسرے لوگ حکومت کے شکر گزار ہوتے ہیں کہ اس نے بڑھاپے میں گزر اوقات کے لیے پنشن مقرر کر دی ۔ رقم ایک ہی ہے لیکن ایک اپنی بنک میں جمع شدہ رقم سے ملی اور ایک حکومت کی طرف سے بطور امداد ملی ۔ اسی طرح دنیا کی دوسری نعماء کا حال ہے ۔ کچھ نعمتیں بندوں کی طرف سے ملتی ہیں اور کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں ۔ مثلاً حضرت ابوبکر مسلمانوں کے بادشاہ تھے ۔ جب مسلمانوں نے انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا تو آپ کے والد جو فتح مکہ تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے فتح مکہ پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت بھی نہیں کی تھی انہیں بھی مکہ میں یہ خبر پہنچی حضرت ابو با ابو بکر تھے تو ایک شریف خاندان میں سے لیکن حاکم خاندان میں سے نہیں تھے۔ ان حاکم ۔ خاندانوں میں سے ایک خاندان تو محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا ۔ ایک خاندان حضرت عمرؓ کا تھا۔ اسی ابو ابوبکر طرح طلحہ اور زبیر کے خاندان تھے معاویہ کا خاندان تھا۔ ابو جہل کا خاندان تھا اور حضرت ا ان خاندانوں میں سے کسی ایک کی نسل میں سے نہ تھے۔ لیکن تھے ایک شریف خاندان میں سے ۔ الله جب رسول کریم ﷺ فوت ہوئے اور حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو ایک آدمی یہ پیغام لے کر ا مکہ پہنچا۔ مجلس بیٹھی تھی جس میں رؤساء بھی تھے اور اُن کے درباری بھی ۔ انہیں اس پیغامبر نے اطلاع دی کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں ۔ لوگوں پر رعشہ طاری ہو گیا اور وہ گھبرائے ا سے رائے اور اور کہا اب کیا ہوگا ؟ پیغامبر نے کہا کوئی بات نہیں آپ کا خلیفہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کون خلیفہ مقرر ہوا ہے؟ تو اس پیغامبر نے کہا حضرت ابوبکر" کو خلیفہ مقرر کیا گیا ہے ۔ حضرت ابو بکرؓ کے والد کی کنیت ابو قحافہ تھی ۔ ابو قحافہ نے دریافت کیا کون ابو بکر ؟ اس نے کہا ابو بکر تمہارا بیٹا۔ ابو قحافہ یہ سمجھ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ سردار خاندان جو ہر وقت اپنی بڑائی کے قصیدے پڑھتے تھے ۔ ابوبکر کی بیعت کر لیں گے ۔ جب انہیں بتایا گیا کہ تمہارے بیٹے ابو بکر خلیفہ ہو گئے ہیں تو وہ کہنے لگے کیا بنو ہاشم نے اُس کی بیعت کر لی ہے؟ پیغامبر نے کہا ہاں ۔ ابو قحافہ نے کہا کیا بنوامیہ نے اس کی بیعت کر لی ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ پھر ابو قحافہ نے کئی اور خاندانوں کے نام لئے ۔ جب سب کے متعلق پیغا مبر نے کہا کہ انہوں نے بیعت کر لی ہے تو ابو قحافہ نے کہا۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ 2