خطبات محمود (جلد 34) — Page 57
1953ء 57 خطبات محمود سے دعائیں کرے۔ اور جماعتی طور پر اس کی جو ڈیوٹی لگائی جاتی ہے اُسے كَمَا حَقَّہ پورا کرے اور حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے ۔ اس وقت ملک کی حکومت وہی ہے جس کی کوشش سے پاکستان وجود میں آیا تھا۔ لیکن اگر کوئی اور حکومت بھی ہوتی تب بھی وہ ان باتوں کو برداشت نہ کرتی ۔ پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی تائید کرے تا مسلمان اس فتنہ سے بچ جائیں جو بر پا کیا گیا ہے۔ 3 پس میں آج لمبا خطبہ نہیں پڑھنا چاہتا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت خطبات کا نہیں ، کام کا وقت ہے ۔۔۔۔ جو باتیں سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ اُن کا فرض ادا ہو گیا ۔ جہاں تک شہر کا تعلق ہے اس کی حفاظت کی جماعتوں کو بھی لکھیں کہ وہ گورنمنٹ اور ملکی حالات کو خراب کر رہے ہیں۔ میں نے جماعت کو بعض نصائح کی تھیں۔ جماعتوں نے ان نصائح پر عمل کیا ہے۔ جماعتوں کے نمائندے بھی یہاں آئے ہیں اور اُن کو ہدایات دی گئی ہیں ۔ اکثر جماعتوں کے نمائندے حکام سے ملے ہیں اور جماعتوں نے آپس میں بھی تنظیم کی ہے۔ بہر حال جماعت کے افراد پر یہ بات روشن ہوگئی ہے کہ انہوں نے اپنی جگہوں سے بھاگنا نہیں ۔ موت بہر حال آنی ہے، اور اگر موت بہر حال آتی ہے تو جب وہ اپنی جگہوں پر رہیں گے تو بھاگ کر بزدل نہیں بنیں گے ۔ باہر سے جو رپورٹیں آرہی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے افراد نے اس سبق کو اچھی طرح سیکھ لیا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی قوم مرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے تو اُس کا مارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُس وقت خود ذمہ دار افسروں کے اندر بھی بیداری پیدا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔ جب تک جماعت مرنے کے لیے تیار نہیں ہو جاتی اُس وقت تک حکام یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں ڈرا دھمکا کر بھگا دیا جائے تو ہم پر کیا الزام آئے گا ۔ ہم کہہ دیں گے کہ ہم تو مدد کے لیے آگئے تھے یہ خود بھاگ گئے ہیں ۔ لیکن اگر کسی جگہ دس احمدی بھی رہتے ہیں اور وہ دس احمدی یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم مر جائیں گے لیکن اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے تو حکام کو بہانہ بنانے کا موقع نہیں مل سکتا ۔ اگر سو جگہوں سے اس قسم کی رپورٹ شائع ہو جائے کہ فلاں فلاں جگہ دس ، پندرہ یا یس احمدی تھے وہ سارے کے سارے مارے گئے ، افسروں نے اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کیا۔ : اصل مسودہ میں چند الفاظ پڑھے نہیں جاتے۔