خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 43

1953ء 43 خطبات محمود ہوتے ہیں۔ ان کی غرض طاغوت کے ذکر کو بلند کرنا اور اسکے اخلاق کو دنیا میں پھیلا نا ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کو بھی ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ احرار اور ان کے ساتھیوں نے 22 فروری کا آخری نوٹس دیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے بعد یہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اکسائیں گے خود مساجد کے حجروں میں گھس جائیں گے اور عوام کو کہیں گے کہ جاؤ اور احمدیوں کو مار دو۔ بعد میں کہیں گے دیکھا ! ہم نے نہیں کہا تھا کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا تو لوگ ان کو ماردیں گے۔ اگر واقع میں لوگوں نے احمدیوں کو مارنا تھا تو لوگ خود اس بات کا نوٹس حکومت کو دیتے ۔ ان مولویوں کو نوٹس دینے کی کیا ضرورت تھی۔ ان مولویوں کو کس طرح پتا لگ گیا کہ لوگ 22 تاریخ کے بعد احمدیوں کو مار دیں گے؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک سازش ہے۔ اس سازش کو چھپانے کے لیے بزدل اور کمینے لوگ دوسروں کا نام لے کر شرارت کرتے ہیں۔ اگلا جمعہ اس نوٹس کے لحاظ سے آخری جمعہ ہوگا اور اگلے اتوار کو ان کا نوٹس ختم ہو جائے گا۔ میری کوشش ہوگی کہ یہ خطبہ اتوار کے اخبار میں چھپ جائے ۔ پس جب اجب اور جہاں یہ خطبہ پہنچے جماعت فوراً اجلاس بلائے اور مشورہ کرے کہ ان کے لیے کیا کیا خطرات ممکن ہیں۔ اور ان کے کیا کیا علاج انہوں نے تجویز کرنے ہیں۔ اور پھر جن جماعتوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے اور انکے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ مرکز میں آدمی بھجوا سکے وہ مرکز میں آدمی بھجوائے جو مقامی تجاویز لا کر نظارت امور عامہ سے اور نظارت دعوۃ و تبلیغ سے مشورہ کرے۔ ممکن ہے بعض مشورے ایسے ہوں جن کی اطلاع حکومت تک پہنچانی مقصود ہو۔ یا لٹریچر کی اشاعت مقصود ہو تو اُسکے متعلق نظارت امور عامہ اور دعوۃ و تبلیغ ہی مفید مشورے دے سکتے ہیں۔ اور مقامی حالات کو لوکل جماعتیں ہی صحیح طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ اس لیے مرکز کا یہ ہدایت دینا کہ تم یوں کر و بعض اوقات فضول سی بات ہو جاتی ہے۔ جماعتیں پہلے آپس میں مشورہ کریں اور اس بات پر غور کریں کہ انہیں کیا کیا خطرہ پیش آسکتا ہے۔ اور پھر اس کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بھی دیکھا جائے کہ جن لوگوں سے خطرہ ہے۔ اُنہیں وہاں کیا اہمیت حاصل ہے اور ان کی جرات اور دلیری کی کیا حالت ہے۔ اُن کے اندر قربانی کا جذبہ کس حد تک پایا جاتا ہے۔ پھر آیا وہاں کے حکام دیانت دار ہیں اور وہ اس فتنہ کو دبانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ پھر حکام اگر دیانتدار بھی ہوں اور وہ فتنہ کو دبانے پر آمادہ بھی ہوں تو بعض اوقات کچھ کمزوری باقی رہ جاتی ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ وہ حکام فتنہ کو دبانے پر آمادہ نہ ہوں تو اس صورت میں اگر کوئی