خطبات محمود (جلد 34) — Page 360
1953ء 360 خطبات محمود غلطی سے سارا اسکول بدنام ہوگا۔ تم کو آج بالکل عریاں کر کے جماعت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تا وہ تمہا را امتحان لے ۔ اگر تم اس امتحان میں فیل ہو گئے تو ہمارا ادارہ ذلیل ہو گا۔ تم اپنے ادارہ کو بد نام نہ کرو بلکہ اس کی عزت کو قائم کرو تو طلباء پر اس کا گہرا اثر ہوگا اور وہ غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔ پس خالی افسران جلسہ کا ہی یہ کام نہیں کہ وہ اپنے کام کی مشق کرائیں ۔ بلکہ ہر ادارہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اساتذہ اور طلباء کو کام پر بھیجنے سے پہلے ایک پرائیویٹ میٹنگ کرے اور انہیں نصیحت کرے اور سمجھائے کہ وہ ادارہ کی عزت قائم کرنے جا رہے ہیں ۔ اُن کی غلطیاں ادارے کی طرف منسوب ہوں گی گی۔ ۔ پھر میں باہر کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ کثرت سے جلسہ پر آئیں۔ جب سے ربوہ قائم ہوا ہے باوجود یکہ یہ ایک کھلی سڑک پر واقع ہے جماعت کے اندر یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ وہ کثرت سے اور بار بار یہاں آئے ۔ جن لوگوں کی یہاں رشتہ داریاں ہیں یا انہوں نے یہاں مکان بنائے ہیں وہ تو یہاں آجاتے ہیں ۔ لیکن دوسرے لوگوں میں یہاں آنے کا اُس طرح احساس پیدا نہیں ہوا جس طرح قادیان آنے کا انہیں احساس تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مولد و مدفن تھا ۔ لیکن در حقیقت اس کی اصل فضیلت یہی تھی کہ وہاں دین کا کام کیا جاتا تھا۔ اور یہی چیز ربوہ کو بھی حاصل ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو محض کسی ی کوبھی مقام سے وابستہ کر لیتا ہے اُسے خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ وہ جو کام کرتا ہے اپنی دلچسپی کی وجہ سے کرتا ہے۔ حالانکہ جس کا خدا تعالیٰ سے اصل تعلق ہوتا ہے وہ اُس چیز سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ مقصد اور اُس کے ارادہ کے مطابق ہوتی ہے۔ کسی کا قول مشہور ہے کہ وہ راجہ کا نوکر ہے بینگن کا نوکر نہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ مومن اپنے ظاہری لگاؤ اور دلچسپیوں کو حقیقی چیز پر قربان کر دیتا ہے۔ اگر کہیں دونوں چیزیں مل جائیں تو فَبِهَا لیکن جب مالک اور آقا کا یہ منش اور کہ وہ ظاہر اور باطن کو الگ الگ کر دے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ ظاہر پر وقت ضائع کرنے سے گریز کرے اور باطن کی طرف جائے۔ اس وقت تک یہی ہوتا ہے کہ لوگ جلسہ پر ربوہ آجاتے ہیں ۔ پس دوست اس موقع پر ضرور آئیں ۔ کیونکہ دوسرے دنوں میں انہیں یہاں آنے کا موقع کم ملتا ہے۔ اور یہ ارادہ کر کے یہار